مصر: 1070 مجرموں کو پھانسی دینے والے مشہور جلاد انتقال کرگئے

اپ ڈیٹ 26 اپريل 2021
1990 سے لے کر 2011  تک حسین القرنی نے جلاد کے فرائض سرانجام دیے— فائل فوٹو: گلف نیوز
1990 سے لے کر 2011 تک حسین القرنی نے جلاد کے فرائض سرانجام دیے— فائل فوٹو: گلف نیوز

مصر میں ایک ہزار 70 مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے والے مشہور جلاد حسین القرنی ال فقی المعروف عشماوی انتقال کرگئے۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق 1990 سے لے کر 2011 میں ریٹائر ہونے تک ایک ہزار 70 مجرموں کو پھانسی دینے والے حسین القرنی کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا گیا تھا۔

حسین القرنی کا انتقال 24 اپریل کو ہوا تھا اور ان کی تدفین 25 اپریل کو آبائی گاؤں میں کی گئی۔

دقہلیہ گورنریٹ میں واقع ان کے آبائی گاؤں منیا سمانود کے سیکڑوں رہائشیوں نے ان کی تدفین میں شرکت کی۔

مزید پڑھیں: مصر: تاریخی مقام پر نازیبا لباس میں فوٹو شوٹ پر مقامی ماڈل کیخلاف انکوائری کا حکم

مڈل ایسٹ مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق وہ مصر کے پانچویں بڑے صوبے طنطا میں 1947 میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے 1967 میں مصری فوج میں خدمات سرانجام دیں۔

اس کے بعد انہوں نے 1970 کی دہائی میں مصری وزارت داخلہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

انہوں نے پرزنز اتھارٹی میں 1990سے 2011 تک 20 برس تک جلاد کے فرائض ادا کیے اور عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا۔

مصری ویب سائٹ کے مطابق عشماوی مصر کے مقبول ترین جلاد مانے جاتے تھے اور وہ کئی برس قبل ہی ریٹائر ہوچکے تھے۔

انہوں نے کئی فلموں اور سیریز میں بھی کام کیا اور مجرموں کو انجام پہنچانے کے کردار ادا کیے تھے۔

عشماوی کے بیٹے نے المصری الیوم کو بتایا تھا کہ حسین القرنی کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: مصر نے پھنسے ہوئے بحری جہاز کے نکل جانے تک نہرِ سوئز بند کردی

وہ سزائے موت کے 1070قیدیوں کو ان کے انجام تک پہنچانے جاتے تھے جن میں 20 فیصد خواتین بھی شامل تھیں۔

رپورٹ کے مطابق حسین القرنی نے بتایا تھا کہ 'میں نے کئی معروف شخصیات کو تختہ دار پر لٹکایا، جن میں ایک خاتون جاسوس ہبہ سلیم بھی شامل تھیں، جو سانحہ بحر البقر پرائمری اسکول کی مرکزی وجہ تھیں'۔

یہ سانحہ مصر کے گاؤں بحر البقر میں پیش آیا تھا جب 8 اپریل، 1970 کو اسرائیلی ایئرفورس نے پرائمری اسکول کا نشانہ بنایا تھا۔

اس حملے کے نتیجے میں 46 بچے جاں بحق اور دیگر 50 زخمی ہوگئے تھے جبکہ اسکول مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں