بھارت میں زیرحراست کشمیری قائدین کی صحت پر تشویش ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2021
فائل/فوٹو:ٹوئٹر
فائل/فوٹو:ٹوئٹر

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے بھارت میں کورونا وائرس کی گھمبیر صورت حال کے پیش نظر زیرحراست کشمیری قائدین کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ کورونا وبا کے دوران زیر حرست حریت قیادت کی صحت پر تشویش ہے، بھارت کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی رکھے گے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت میں کورونا کی صورتحال سنگین، یومیہ کیسز ایک مرتبہ پھر ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے

انہوں نے کہا کہ چند گرفتار کشمیری رہنماؤں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن بھارت کی جانب سے ان گرفتار کشمیری رہنماوں کو طبی امداد نہیں دی گئیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں گرفتار کشمیری رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے۔

'جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارت کو مدد کی پیشکش کی'

بھارت میں کورونا سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارت کو کورونا سے نمٹنے میں مدد کی پیش کش کی ہے اور بھارت کو ڈیجیٹل ایکسرے، وینٹی لیٹرز اور پی پی ایز فوری مہیا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کورونا کی موجودہ لہر میں بھارتی عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ہم بھارت کو فوری وینٹی لیٹرز، بائی پیپس و دیگر ضروری سامان کی فراہمی کی پیش کش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کورونا وائرس کا بحران شدید تر، مختلف ممالک کے تعاون کے وعدے

انہوں نے کہا کہ یہ پیش کش سفارتی ذرائع سے کی گئی لیکن اس پر بھارتی حکومت کی جانب سے جواب کا ابھی انتظار ہے۔

'پاکستان نے کبھی مذاکرات سے راہ فرار اختیار نہیں'

بھارت سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی بھارت کے ساتھ مذاکرات سے راہ فرار اختیار نہیں کی، مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے بھارت کی جانب سے ایک سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاک بھارت مسائل بالخصوص جموں و کشمیر کے حل کے لیے کسی بھی تیسرے فریق کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہم بھارتی آئین کے تحت نافذ کیے گئے آرٹیکلز کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کے لیے پاکستان بات چیت پر یقین رکھتا ہے، جس کے لیے بامعنی و نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں موجودہ رویہ اور ماحول پاک بھارت مذاکرات کے لیے سازگار نہیں ہے۔

'ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ہمارے مشنز مسلسل رابطے میں ہیں'

ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ کے دوران کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ہمارے امریکا میں موجود مشنز مسلسل رابطے میں ہیں اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ ایسا کچھ ہو بھی جائے تو امریکی حکومت تفصیلات پاکستان کو جاری کرنے کی پابند ہے، ہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو صحت اور زندگی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

'افغانستان میں تشدد میں کمی کے خواہش مند ہیں'

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا افغان امن عمل کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے، ہم افغانستان میں تشدد میں کمی کے خواہش مند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں دیرینہ قیام امن کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے، ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان کے افغان امن عمل کو نقصان پہنچے، امریکی فوج کا افغانستان سے ذمہ دارانہ انخلا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس افغان طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن افغان طالبان مکمل طور پر ہمارے قابو میں نہیں ہیں جبکہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کے لیے مثبت کردار جاری رکھے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا باقاعدہ طریقہ کار کے تحت ذمہ دارانہ طور پر ہونا چاہیے، غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں کسی قسم کا سیکیورٹی خلا نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کا افغان امن عمل میں کسی قسم کا مثبت کردار نہیں دیکھتے جبکہ پاکستان کا افغان امن عمل کے مراحل میں ایک تعمیری اور مثبت کردار رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل ایک طویل المدت عمل ہے جس میں تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا، افغان امن عمل میں پاکستان یا دوسرا کوئی بھی ملک سہولت کار کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

سعودی عرب کا ایران کے حوالے سے بیان پر خیرمقدم

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی جانب سے ایران سے اچھے تعلقات کے قیام کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہے، سعودی ولی محمد بن سلمان کا امن کا اقدام خطے میں امن و استحکام کا باعث ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم دونوں دوست ممالک سعودی عرب اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم آئندہ ماہ کے شروع میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور اس دورے کی تفصیلات جلد جاری کردی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان بیرون ممالک پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کو اہمیت دیتی ہے اور دنیا بھر میں مشنز کو پاکستانی برادری کی امداد کی ہدایات موجود ہیں اور وزیر اعظم کے حالیہ بیان پر مکمل عمل درآمد کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر راجا علی اعجاز اور پاکستانی سفارتی عملے کے 6 اہلکاروں کو بھی واپس طلب کرلیا گیا ہے، اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری شروع ہو رہی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں