بچوں کی قبل از وقت پیدائش ماؤں میں فالج کا خطرہ بڑھانے کا باعث

10 مئ 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

یہ حیران کن نہیں کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو مستقبل میں زیادہ طبی مسائل کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

مگر اب یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس طرح کے اثرات ان بچوں کی ماؤں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن جرنل سرکولیشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ جن خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش قبل از وقت ہوتی ہے، ان میں فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

حمل کی مکمل مدت 40 ہفتوں کے قریب ہوتی ہے جبکہ 37 ہفتوں سے قبل پیدائش کو قبل از وقت قرار دیا جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ماضی میں چھوٹی تحقیقی رپورٹس میں قبل از وقت پیدائش اور فالج کے ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر کا عندیہ دیا گیا تھا، جو فالج کا خطرہ بڑھانے والا بڑا عنصر ہے۔

اسی کو دیکھتے ہوئے امریکا کے ایشکن اسکول آف میڈیسین کے محققین نے سوئیڈن سے ڈیٹا حاصل کیا۔

یہ لگ بھگ 22 لاکھ خواتین کا ڈیٹا تھا جن کے ہاں 1973 سے 2015 کے درمیان بچوں کی پیائش ہوئی تھی۔

محققین نے ڈیٹا میں یہ تجزیہ کیا کہ کن خواتین کو ان برسوں کے دوران فالج کا سامنا ہوا۔

تحقیق کے اختتام پر 36 ہزار 372 خواتین (1.7 فیصد) کو فالج کا سامنا ہوا۔

فالج کا خطرہ بڑھانے والے دیگر عناصر جیسے تمباکو نوشی، موٹاپا اور ذیابیطس کو مدنظر رکھتے ہوئے محققین نے دریافت کیا کہ بچوں کی قبل از وقت پیدائش سے خواتین میں فالج کا امکان 42 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق بچے کی پیدائش جتنی جلد ہوگی، فالج کا خطرہ اتنا زیادہ ہوگا۔

محققین نے بتایا کہ ایسی خواتین میں فالج کا خطرہ بچے کی پیدائش کے 10 سال بعد سب سے زیادہ ہوتا ہے، تاہم 40 سال تک فالج کا امکان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے سب سے حیران کن دریافت یہ تھی کہ یہ خطرہ کتنے لمبے عرصے تک برقرار رہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج کا اطلاق دل سے دماغ کی جانب جانے والی شریانوں کی بندش سے ہونے والے فالج کے دورے اور برین ہیمرج دونوں پر ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ توقع ہے کہ طبی ماہرین مزید تحقیق میں ایسے سوالات کے جواب تلاش کرسکیں گے جن کی وضاحت ہماری تحقیق میں نہیں ہوئی، جیسے قبل از وقت پیدائش سے فالج کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جن خواتین کے ہاں بچوں کی قبل از وقت پیدائش ہوتی ہے، انہیں ڈاکٹروں کو فالج کے طویل المعیاد خطرے سے آگاہ کرنا چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں