افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا میں ملوث مجرمان کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں، شاہ محمود قریشی

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2021
—فوٹو:ڈان نیوز
—فوٹو:ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کی تفتیش افغانستان اور پوری دنیا کے سامنے رکھیں گے اور مجرمان کو بے نقاب کریں گے۔

اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی نے مشیر قومی سلامتی معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں افسوس ناک واقعہ رونما ہوا، جس سے ہم سب کو تکلیف تھی اور ہونی چاہیے، ہم بھی بیٹیوں والے ہیں اور ان کی عزت، احترام اور پرائیویسی سب پر لازم ہے۔

مزید پڑھیں:افغانستان نے پاکستان سے اپنا سفیر، سینئر سفارت کاروں کو واپس بلا لیا

انہوں نے کہا کہ میرے علم میں جب آیا کہ افغانستان کی حکومت اپنے سفرا اور سینئر سفارت کاروں کو واپس بلا رہی ہے تو میں نے افغان وزیر خارجہ سے رابطہ کرکے حقائق سے مطلع کرنے کا فیصلہ کیا اور آج صبح ان کو صورت حال سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو اقدامات کیے ہیں، ان سے شیئر کیے اور تسلی دی کہ حکومتِ پاکستان مکمل تعاون کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، ہم نے کچھ پوشیدہ نہیں رکھنا، ہمیں کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ جو تفتیش اس وقت جاری ہے، اس کے جو بھی نتائج ہوں گے وہ ہم میڈیا کو جاری کرنا چاہیں گے، کیونکہ کچھ بھی پوشیدہ رکھنے کا ہمارا ارادہ نہیں ہے۔

افغان وزیر خارجہ سے ہونے والی گفتگو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ان کو بتایا وزیراعظم پاکستان نے ذاتی طور پر اس کا نوٹس بھی لیا ہے اور پوری تفتیش کو وہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ کس نوعیت کا ہے اور کتنا حساس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ حقائق ان کے اور دنیا کے سامنے رکھیں اور جو مجرم ہیں ان کو بے نقاب کریں، نہ صرف بے نقاب کریں بلکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور جو ذمہ داران ہیں، انہیں قرار واقعی سزا ملے۔

'افغان سفارت خانے، قونصل خانوں کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے'

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیکریٹری خارجہ نے ان کے سفیر اور ان کی صاحبزادی کو دفتر خارجہ میں دعوت دی اور حکومت پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا اور انہیں مکمل تعاون کی پوری تسلی دی۔

یہ بھی پڑھیں: افغان سفیر کی بیٹی اغوا نہیں ہوئی، یہ ‘انٹرنیشنل سازش’ ہے، شیخ رشید

سیکریٹری خارجہ کی افغان سفیر اور ان کی صاحبزادی سے ملاقات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی کہا کہ ہمیں آپ کی سیکیورٹی کا پورا احساس ہے، سیکیورٹی پہلے بھی مناسب تھی لیکن اس واقعے کے بعد فیصلہ کیا مزید بڑھا دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان کے نہ صرف سفارت خانے بلکہ قونصل خانے چاہے کراچی، پشاور یا کوئٹہ میں ہو، ان کی سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ہماری افغانستان اور پاکستان میں اپنی قدریں ہیں، ہمارا کلچر، ہمارا ماحول، ہمارا دین اور ہماری اقدار ملتی جلتی ہیں، وہ ہماری اقدار کا احترام کرتے ہیں اور ہمیں ان کے اقدار کا احترام کرنا ہے اور آداب میں رہ کر آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کل ہم نے ان کو ایک نوٹ بھی دیا ہے، اس میں ہم نے ان سے کچھ تقاضے کیے ہیں جو تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہیں، ہمیں ان کا تعاون درکار ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج افغان وزیر خارجہ حنیف آتمر نے بھی کہا کہ وہ نوٹ دیکھ لیا ہے اور میں نے ان سے گزارش کی کہ سفیر اور سینئر سفارت کاروں کو واپس بلانے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں جو ہم دونوں کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات کی اہمیت سے ہم غافل نہیں، ہماری قانونی ذمہ داریاں، سفارتی آداب اور ذمہ داریاں ہیں، ہم ان سے پوری طرح واقف ہیں اور پوری طرح ان سے تعاون کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور خاص کر ان حالات میں جہاں ایک امن عمل کی نشست جاری ہے، آج بھی زلمے خلیل زاد آئے تھے اور وزیراعظم سے ملاقات کی، ہم نے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

'سیکیورٹی ماحول دیکھنے افغان وفد اسلام آباد آئے گا'

انہوں نے کہا کہ حنیف آتمر نے مجھے یقین دلایا کہ وہ اس تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں، جس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم کے سنجیدہ نوٹس پر شکریہ ادا کیا اور وزارت خارجہ کے اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان سفیر کی بیٹی پر تشدد، وزیر اعظم کی ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان وزیر خارجہ نے کہا ہم اپنا ایک وفد بھی اسلام آباد بھیجنا چاہتے ہیں تو میں نے کہا کہ شوق سے آپ تشریف لائیں اور وہ ٹیم آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد یہ تھا کہ ٹیم بھیج کر سیکیورٹی کا ماحول دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم اس ٹیم کے ساتھ بھی تعاون کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں اس کیس پر ہمیں مشترکہ طور پر آگے بڑھنا چاہیے اور اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ہماری تفتیش تقریباً مکمل ہوگئی ہے، آئی جی اسلام آباد

اس موقع پر آئی جی اسلام آباد نے اس معاملے کی تفتیش کے حوالے سے آگاہ کیا اور کہا کہ یہ انتہائی حساس اور اہم کیس ہے، اس طرح کا واقعہ رپورٹ ہونا ہمارے لیے چیلنج تھا، یہ کیس اندھا تھا، رپورٹ کے بعد کوئی ثبوت اور دیگر چیزیں ہمارے پاس نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے تمام وسائل بروئے کار لائے اور 5 ٹیمیں تشکیل دیں، کوئی ٹیکنیکل، کوئی ہیومن اینالسز پر گیا اور ایک ٹیم آپریشن پر تشکیل ہوئی اور جہاں سے معلومات ملتی تھی وہ ٹیم وہاں جاتی تھی، ڈیٹا اینالسز ہوا اور دیگر اداروں نے ہماری بھرپور مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کم و بیش 3 دنوں کے اس عمل کے دوران ہم نے 300 سے زیادہ کیمروں کا تجزیہ کیا، جس میں سیف سٹی کے کیمرے اور نجی کیمرے بھی شامل ہیں، اسلام آباد اور راولپنڈی کے کیمرے بھی شامل ہیں۔

آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے 700 گھنٹوں سے زائد کی ریکارڈنگ دیکھی، اب تک 220 سے زائد افراد کا انٹرویو کیا، ایک گاڑی کے 5 مالکان نکل آئے اور ایک ایک کرکے ان کے پاس جاتے گئے اور بالآخر ڈرائیور تک پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اس وقت 350 سے زائد افسر اور جوان، خواتین پولیس افسران پچھلے تین دنوں سے اس کیس پر کام کر رہے ہیں، اس کا حصول یہ ہے کہ ہم نے پورا روٹ واضح کر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تصدیق کرلی ہے کہ شکایت کنندہ گھر سے نکلتی ہیں تو پھر کہاں جاتی ہیں، پھر کہاں جاتی ہیں اور پھر گھر کیسے پہنچتی ہیں۔

آئی جی نے کہا کہ یہ گھر سے پیدل نکلتی ہیں، پھر گالا مارکیٹ سے ٹیکسی لے کر کھڈا مارکیٹ جاتی ہیں اور تحائف لیتی ہیں، اس حوالے سے ڈرائیور کا کھوج لگا کر اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے ان کو یہاں اٹھایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر دوسری ٹیکسی میں کھڈا مارکیٹ سے راولپنڈی جاتی ہیں، یہاں اہم بات یہ ہے کہ وہ شکایت کرتی ہیں کہ دوسری ٹیکسی میں واقعہ ہوتا ہے، ٹیکسی میں چلتے ہوئے 5 منٹ ہوتے ہیں تو کوئی بندہ داخل ہوتا ہے اور ان پر تشدد کرتا ہے۔

پولیس افسر نے بتایا کہ ہم نے دوسری ٹیکسی کا بھی کھوج لگایا تو اس کے بھی تین مالکان تھے اور تیسرے مالک کے پاس پہنچ کر ڈرائیور مل جاتا ہے اور وہ تصدیق کرتا ہے کہ میں نے ان کو کھڈا مارکیٹ سے اٹھایا اور راولپنڈی صدر لے کر گیا اور 600 روپے کرایہ وصول کیا جبکہ کھڈا مارکیٹ سے نکل کر ایکسپریس وے، فیض آباد اور صدر کی ساری سی سی ٹی وی فوٹیج ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں پر ان کو ڈراپ کیا گیا تھا وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہمیں نہیں ملی، پنڈی صدر کے 8 کیمروں سے اس کی تصدیق ہوئی، ہم نے ڈرائیور کا نمبر بھی ٹریک کیا تو وہ بھی وہی پہنچی۔

انہوں نے کہا کہ پنڈی سے دامن کوہ کے لیے ایک اور ٹیکسی لی جہاں سے ہمیں ایک کیمرا ملا جو دامن کوہ میں تھا وہاں سے ہمیں اشارے ملے تو ہم نے ڈرائیور ڈھونڈ نکالا، جس نے کہا کہ میں نے ان سے 700 کرایہ لیا اور اسلام آباد ڈراپ کیا۔

تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پھر چوتھی ٹیکسی بھی شامل ہے، وہ یہ ہے کہ دامن کوہ سے ان کو اٹھاتا ہے اور ایف نائن پارک ڈراپ کرتا ہے لیکن اسے پہلے ایف 6 جاتی ہیں اور فون نہیں ملنے پر ایف نائن پارک جاتی ہیں، اس بندے کا انٹرویو بھی ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف نائن پارک میں کسی سے موبائل لے کر وہ سفارت خانے فون کرتی ہیں اور وہاں سے سفارت خانے کا عملہ آکر ان کو گھر لے جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تفتیش تقریباً پوری ہوگئی ہے، درمیان میں ایک تاثر آگیا تھا وہ ہمارے ثبوت کے مطابق ثابت نہیں ہوتا اور ہم نے وزارت خارجہ سے درخواست کی کہ ہمیں مزید تعاون کی ضرورت ہے تو انہوں نے نوٹ بنا کر بھیج دیا۔

پاکستان ہائبرڈ وار فیئر کا نشانہ بنا ہوا ہے، معید یوسف

پریس کانفرنس کے دوران مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ ہم بارہا بحیثیت ریاست اور حکومت یہ بات کرتے رہے ہیں کہ پاکستان ہائبرڈ وار فیئر کا نشانہ بنا ہوا ہے اور انفارمیشن وار فیئر کا ایک پورا جال ہے جس کو جب موقع ملتا ہے یا موقع بنا کر پاکستان کےخلاف استعمال ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ای یو ڈس انفو لیب یورپی یونین کا ایک معروف ادارہ ہے، جنہوں نے یہ سارا جال بے نقاب کیا تھا، جس میں بھارت کا ذکر تھا جہاں سے کس طرح سیکڑوں ویب سائٹس اور جعلی نیوز ادارے چل رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں ایسے ہیش ٹیگز چلائے گئے جس کی کوئی بنیاد نہیں تھی اور ایسا تاثر دیا گیا کہ پاکستان کی کوئی پالیسی ہے یا کوئی بات ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ یہ سب روبوٹ سے ایک بیانیہ بنا کر پوری دنیا میں پھیلاتے ہیں کہ پاکستان میں سیکیورٹی خراب ہے اور افغانستان میں کچھ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک مہم کا حصہ ہے، پاکستان کے خلاف مختلف محاذ کھولے ہوئے ہیں، ایک دلچسپ بات ہے وہی اکاؤنٹ جو بلوچستان یا کشمیر کے بارے میں جعلی پروپیگنڈا آگے بڑھاتے ہیں وہی اکاؤنٹس اس واقعے پر بھی پروپیگنڈا کر رہے ہیں جو محض اتفاق نہیں ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اکاؤنٹس چند پاکستان کے اندر، چند افغانستان سے، چند بھارت سے اور چند وسطی دنیا سے نظر آتے ہیں، یہ بالکل واضح ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم آگے بڑھتے ہیں اور افغانستان کے ساتھ معاملات ٹھیک ہوتے ہیں تو یہ چیزیں شروع ہوجاتی ہیں، جو اس میں ملوث ہیں، ان کے بارے میں بار بار کہہ چکے ہیں اور کہتے رہے ہیں افغانستان میں پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔

مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ افغانستان میں کسی اور کی ناکامی ہمارے اوپر ڈالنا ہمیں قبول نہیں ہوگا، ہم یہ تمام اکاوئنٹس کی نگرانی کرتے ہیں، ان سے جو سرگرمیاں ہوتی ہیں وہ بڑی منظم ہوتی ہیں اور یہ سب ہماری نظر میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی نشان دہی کرنے کے بعد تصدیق کرکے فیس بک، ٹوئٹر اور جو بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہے اس سے ختم کرادیتے ہیں، یہ کوئی نہ سمجھے کہ پاکستان میں سیکیورٹی خراب یا پاکستان کی پالیسی سے متعلق دنیا کو غلط معلومات دے کر بے وقوف بنایا جائے۔

تبصرے (0) بند ہیں