فیس بک کے اسمارٹ فونز ختم کرنے کے منصوبے میں پیشرفت

29 جولائ 2021
— اے ایف پی فائل فوٹو
— اے ایف پی فائل فوٹو

فیس بک کی جانب سے اسمارٹ فونز کے خاتمے کے لیے عرصے سے مختلف ہارڈ ویئر منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔

جن میں سے ایک اسمارٹ گلاسز بھی ہے جس پر کئی سال سے کام کیا جارہا تھا۔

مگر اب کمپنی کی جانب سے اسے متعارف کرانے کا عندیہ ظاہر کیا گیا ہے۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے سہ ماہی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے رے بین کے تیار کردہ اسمارٹ گلاسز کو جلد متعارف کرایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 'یہ گلاسز آئیکونک ہوں گے اور ان سے آپ بہت کچھ کرسکیں گے، اسی لیے میں مستقبل میں مکمل اگیومینٹڈ گلاسز کے سفر میں پیشرفت کے لیے پرجوش ہوں۔

اسمارٹ گلاسز کے بارے میں سب سے پہلے رپورٹس 2019 میں سامنے آئی تھی اور اس وقت بتایا گیا تھا کہ اس ڈیوائس کا کوڈ نام اورین رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اسمارٹ گلاسز کو 2021 میں متعارف کرایا جاسکتا ہے مگر اس کے بعد کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

مارک زکربرگ نے بتایا کہ یہ گلاسز مستقبل کی کنجی کی حیثیت رکھتے ہیں، مستقبل میں فیس بک شیئرڈ اور لیو ایبل پلیٹ فارم کو تشکیل دے گی جس سے لوگ ورچوئل رئیلٹی اور اگیومینٹڈ رئیلٹی سے 'ٹیلی پورٹ' ہوسکیں گے۔

مارک زکربرگ نے اس کے لیے میٹا ورس کی اصطلاح بھی استعمال کی جس کو حالیہ عرصے میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ہمارا بزنس ماڈل مہنگی ڈیوائسز کی فروخت کے گرد گھومنے والا نہیں ہوگا بلکہ ان کو زیادہ کم قیمت بنایا جائے گا کیونکہ ہمارا مشن زیادہ سے زیادہ لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔

سابقہ رپورٹس کے مطابق فیس بک کے اگیومینٹڈ رئیلٹی ٹیکنالوجی سے لیس اسمارٹ گلاسز کو پہننے پر صارفین کی آنکھوں کے سامنے ایک گرافک ڈسپلے آجائے گا جبکہ صارف کالز کرسکے گا، اپنی پوزیشن کو لائیو اسٹریم اور فیس بک پاور اے آئی سے بہت کچھ کرسکے گا۔

ویسے یہ پہلی بار نہیں جب فیس بک کی جانب سے اسمارٹ فونز کو ختم کرنے کے منصوبہ سامنے آیا ہو۔

اپریل 2017 میں فیس بک کی کمپنی اوکیولس ریسرچ کے چیف سائنسدان مائیکل ابریش نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 5 سال کے اندر اے آر ٹیکنالوجی پر مبنی گلاسز اسمارٹ فون کی جگہ لے لیں گے اور روزمرہ کی کمپیوٹنگ ڈیوائس بن جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی سے لیس یہ چشمے آج کل کے عام چشموں جیسے ہوں گے جن کا وزن کم ہوگا مگر وہ پہننے والے کی یاداشت کو بڑھانے، غیر ملکی زبانوں کا فوری ترجمہ، ارگرد ہونے والی بات چیت یا آوازوں کو کانوں میں جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ ایک نظر میں بچے کے جسمانی درجہ حرارت کے بارے میں بھی بتائیں گے۔

باالفاظ دیگر وہ سپر گلاسز ہوں گے جن کو پہننے کے بعد اسمارٹ فونز کی ضرورت نہیں رہے گی۔

مائیکل ابریش کے مطابق 2022 تک اسمارٹ فونز کے متبادل کے طور پر یہ گلاسز سامنے آئیں گے اور آج سے 20 سے تیس سال کے اندر ہماری پیشگوئی ہے کہ سب لوگ فونز کی جگہ یہ اسٹائلش چشمے پہننا پسند کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال کے اندر ہی یہ گلاسز ہر جگہ استعمال ہونے لگیں گے اور اسمارٹ فونز کا استعمال کم سے کم ہونا شروع ہوجائے گا۔

اگر آپ کی آنکھوں پر ایک کمپیوٹر ہوگا تو یہ صرف ٹی وی نہیں بلکہ اسمارٹ فونز، اسمارٹ واچز، ٹیبلیٹس، فٹنس ٹریکرز یا ایسی ہی دیگر ڈیوائسز کی ضرورت بھی ختم کردے گا۔

اسی طرح 2016 میں فیس بک کے سنیئر عہدیار ڈیوڈ مارکس نے موبائل فون نمبر کو ختم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میسنجر کی بڑھتی مقبولیت کے باعث اب فون نمبروں کے دن گنے جاچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'خود سوچیں ایس ایم ایس فلپ فونز میں کتنے عام تھے، مگر اب اپنے فونز پر اب میسجنگ اپلیکشنز کا استعمال کرتے ہیں اور ان کی مدد سے فون کالز اور تحریری پیغامات بھی کرلیتے ہیں'۔

ان کا ماننا ہے کہ پرانے موبائل فونز کا عہد ختم ہونے بعد زیادہ بہتر، پرتنوع کمیونیکشن کو فروغ ملا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میسنجر کے ذریعے ہم لوگوں کو ٹیکسٹ کی سہولت تو دے ہی رہے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ تصاویر، ویڈیوز، وائس کلپس، جی آئی ایف، آپ کی لوکیشن، اسٹیکرز وغیرہ کی پیشکش بھی کررہے ہیں اور لوگ اس سے رقوم بھی بھیج سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ ویڈیو اور وائس کالز کرنا بھی ممکن ہے اور اس کے لیے فون نمبر کی ضرورت نہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں