مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کے خلاف ’فرضی کیس‘ پر برہم

اپ ڈیٹ 25 اگست 2021
نیب نے مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف کو 45 لاکھ روپے کے کرپشن کیس میں نوٹسز بھیجے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
نیب نے مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف کو 45 لاکھ روپے کے کرپشن کیس میں نوٹسز بھیجے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے پارٹی کے صدر شہباز شریف کو 45 لاکھ روپے کے 7 سال پرانے کرپشن کیس میں ملوث کرنے پر قومی احتساب بیورو (نیب) کا مذاق اڑایا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے من گھڑت کیسز اس وقت تک نہیں کھل سکتے جب تک چیئرمین نیب براہِ راست اس میں ملوث نہ ہوں۔

نیب راولپنڈی دفتر میں ایک جواب جمع کرواتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے وزیر اعظم عمران خان، ان کے مشیر شہزاد اکبر کی ملی بھگت سے راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس سروس کے روٹ پر خوبصورتی اور باغبانی کے کام کا ٹھیکا دینے سے متعلق ’من گھڑت‘ کیس میں شہباز شریف کو نوٹسز بھیجے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے شہباز شریف کی آمدنی کے ذرائع کی تحقیقات نہیں کیں، لاہور ہائیکورٹ

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو ارسال کردہ نیب کے نوٹس کے جواب میں انہوں نے بیورو سے کہا ہے کہ وہ 7 سال پرانے معاملے سے متعلق مکمل ریکارڈ اور ڈیٹا فراہم کرے جب وہ وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔

اس سوال پر کہ صدر مسلم لیگ (ن) نے خود نیب کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اس سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ مریم اورنگزیب نے کہا کہ 'فرضی کیس' کی بنیاد اور تفصیلات کو جانے بغیر اس سلسلے میں ذاتی طور پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

مریم اورنگزیب جو پارٹی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطااللہ تارڑ کے ہمراہ نیب دفتر پہنچی تھیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیب حکام نے انہیں تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کروایا کیونکہ وہ اس صورتحال کے لیے تیار نہیں تھے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ نیب حکام نے یہ مراسلہ وزیر اعظم عمران خان اور شہزاد اکبر سے تازہ ہدایات اور منظوری کے بعد ہی وصول کیا۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کا شہباز شریف کی گرفتاری پر مزاحمت کا اعلان

حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے باغبانی کے ٹھیکے سے متعلق اس کیس کو شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف ’انتہائی واضح سیاسی انتقام‘ مہم کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک پیسے کی بھی کرپشن ثابت نہیں کرسکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 90 ارب روپے کی بدعنوانی کے الزامات سے شروع ہونے والا معاملہ میٹرو بس کے راستے میں پھولوں اور پودوں کے لیے 45 لاکھ روپے کے ٹھیکے پر آگیا ہے۔

خیال رہے کہ نیب نے شہباز شریف کو منگل کو راولپنڈی اسلام آباد میٹرو منصوبے میں خوبصورتی اور باغبانی کے کام کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر احسن اقبال کے بھائی کی کمپنی کو دینے سے متعلق الزامات کا جواب دینے کے لیے ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے نے دوران تفتیش مجھے ہراساں کیا، شہباز شریف کا دعویٰ

رپورٹس کے مطابق سٹی پولیس کے سربراہ کے ذریعے شہباز شریف کو نوٹس ان کے ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ پر پہنچایا گیا تھا۔

نیب حکام کے مطابق اس کیس میں شہباز شریف کو ارسال کردہ یہ دوسرا نوٹس تھا کیونکہ انہوں نے پہلے کو نظر انداز کیا تھا۔

تاہم مریم اورنگزیب نے نیب کے دعوے کی تردید کی اور کہا کہ شہباز شریف کو صرف ایک نوٹس ملا تھا جس کی بنیاد پر انہوں نے بیورو کو جواب جمع کرایا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں