افغانستان میں 20 سالہ امریکی جنگ اختتام پذیر، طالبان کا جشن

اپ ڈیٹ 31 اگست 2021
امریکا اور اس کے اتحادی کابل سے ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں کامیاب رہے—فوٹو: اے ایف پی
امریکا اور اس کے اتحادی کابل سے ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں کامیاب رہے—فوٹو: اے ایف پی

واشنگٹن: گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے جواب میں افغانستان پر چڑھائی کے 20 برس مکمل ہونے سے چند روز قبل آخری امریکی فوجی بھی افغانستان سے روانہ ہوگیا، جس کے باعث کابل کی گلیاں خوشی میں کی گئی ہوائی فائرنگ سے گونج اٹھیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیجز میں جنگجوؤں کو رات گئے امریکی فوجیوں کے جانے کے بعد کابل ایئرپورٹ میں داخل ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے کہا کہ ’آخری امریکی فوجی بھی کابل سے جاچکا ہے اور ہمارے ملک نے مکمل آزادی حاصل کرلی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: اگر داعش نے جنگی صورتحال پیدا کی تو ہم ان سے نمٹ لیں گے، ترجمان طالبان

امریکی فوج نے کابل سے باہر نکلنے کی آخری پرواز پر سوار ہونے والے آخری امریکی فوجی کی نائٹ ویژن آپٹکس کے ساتھ لی گئی تصویر شیئر کی، جو 82ویں ایئربورن ڈویژن کے میجر جنرل کرس ڈونا تھے۔

امریکا کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے دوران تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی، 2 لاکھ 40 ہزار افغان شہری ہلاک ہوئے اور اس پر 20 کھرب ڈالر لاگت آئی۔

اگرچہ امریکا کے اس قبضے نے افغانستان میں طالبان کو اقتدار سے دور رکھا اور افغانستان کو القاعدہ کی جانب سے امریکا پر حملے کے لیے اڈے کے طور پر استعمال ہونے سے روک دیا لیکن اس کا اختتام ایسے ہو رہا ہے کہ عسکریت پسند 1996 سے 2001 تک کے اپنے سابقہ دورِ حکمرانی سے زیادہ ملک پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔

چنانچہ امریکا اور اس کے اتحادی گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایک وسیع مگر افراتفری والی ایئرلفٹ کے ذریعے کابل سے ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے میں کامیاب رہے۔

مزید پڑھیں: کابل: 'امریکی ڈرون حملے میں بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 10 افراد ہلاک'

اس کے باوجود ہزاروں ایسے افغان شہری پیچھے رہ گئے ہیں جنہوں نے مغربی ممالک کی مدد کی اور طالبان کی طرف سے انتقامی کارروائیوں سے خوفزدہ ہیں۔

امریکی شہریوں کا ایک دستہ، جو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے مطابق 200 سے کم اور ممکنہ طور پر 100 کے قریب افراد پر مشتمل تھا، بھی انخلا کرنا چاہتا تھا لیکن آخری پروازوں میں جانے سے قاصر تھے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل فرینک میک کینزی نے پینٹاگون کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں چیف امریکی سفارت کار راس ولسن، اڑان بھرنے والی آخری سی -17 فلائٹ میں تھے۔

اس افراتفری کے شکار انخلا کے دوران ایئرپورٹ پر ہوئے دھماکے کے نتیجے میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، اس کے باوجود طالبان کی حکومت سے فرار کے خواہشمند ہزاروں افغان اور سیکڑوں امریکی شہری افغانستان میں ہی رہ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے امریکا سے اپنی مکمل آزادی حاصل کرلی، ترجمان طالبان

پینٹاگون نے ایک نیوز کانفرنس میں اعلان کیا کہ القاعدہ کے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکا کی شروع کی گئی جنگ کے 20 برسوں میں پہلی مرتبہ افغانستان میں امریکی فوج کا کوئی ایک رکن بھی موجود نہیں ہے۔

'شکستہ دل' وہ لفظ تھا جسے امریکی میرین جرل فرینک میکنزی نے امریکا کی طویل ترین جنگ سے واپس جانے سے منسلک جذبات بیان کرنے کے لیے استعمال کیا۔

جنرل میکنزی نے کہا کہ اس روانگی سے بہت سے دل ٹوٹے ہیں، جو کوئی جانا چاہتا تھا ہم ہر ایک کو نہیں نکال سکے لیکن میرے خیال میں اگر ہم مزید 10 روز بھی رہتے تب بھی ہر ایک کو نہیں نکال سکتے تھے۔

تاہم امریکی افواج نے جانے سے قبل 70 سے زائد طیاروں، درجنوں بکتر بند گاڑیوں اور کابل ایئرپورٹ پر داعش کے راکٹ حملوں کو روکنے والے ایئر ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بنادیا۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں