پاکستان کے نامور موسیقار وزیر افضل انتقال کرگئے

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2021
انہیں متعدد طبی پیچیدگیاں لاحق تھیں اور ایک ہفتہ قبل انہیں شیخ زید ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا —فائل فوٹو: فیس بک
انہیں متعدد طبی پیچیدگیاں لاحق تھیں اور ایک ہفتہ قبل انہیں شیخ زید ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا —فائل فوٹو: فیس بک

پاکستان کے لیجنڈری موسیقار وزیر افضل طویل علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر افضل کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ انہیں متعدد طبی پیچیدگیاں لاحق تھیں اور ایک ہفتہ قبل انہیں شیخ زید ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

مرحوم کی نماز جنازہ اقبال ٹاؤن کی مسجد خراسان میں ادا کی گئی اور انہیں علامہ اقبال ٹاؤن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

مزید پڑھیں: لیجنڈری اداکارہ سلطانہ ظفر انتقال کرگئیں

وزیر افضل کی نمازِ جنازہ میں موسیقار اکبر عباس، قادر شگن، خاور عباس، معین بٹ، بیلا ناصر اور دیگر نے شرکت کی۔

وزیر افضل نے 37 فلموں میں 209 گانے کمپوز کیے جن میں پانچ اردو فلموں کے 31 گانے اور 31 پنجابی فلموں کے 178 گانے شامل ہیں۔

تاہم ان کی کچھ فلمیں ریلیز نہ ہو سکی تھیں، بطور میوزک ان کی پہلی فلم 1963 میں چاچا خواپ خواہ تھی جسے اسلم ایرانی نے پروڈیوس کیا تھا۔

اس فلم کے لیے انہوں نے 3 گانے کمپوز کیے تھے اور جب اداکار علاؤ الدین نے فلمیں بنانا شروع کیں تو انہوں نے وزیر افضل کو موسیقار تعینات کیا تھا جس سے فلم انڈسٹری میں ان کا مقام مضبوط ہوا تھا۔

موسیقار وزیر افضل نے پاکستانی فلم انڈسٹری کو کئی لازوال گیت دیے۔

ان کے کچھ یادگار گانوں میں 'شکوہ نہ کر گلہ نہ کر'، 'سیو نی مرے دل دا جانی'، 'جا آج تو میں تیری تو میرا'، 'کہندے نہیں نینا' اور 'نریندر نہیں آندیاں'، 'چھاپ تلک سب چھین' اور 'یہ رنگینی نوبہار، اللہ اللہ' شامل ہیں۔

وزیر افضل کے زیادہ تر گانے ملکہ ترنم نور جہاں نے گائے جنہوں نے ان کی ترتیب دی گئی 104 دھنوں پر گانے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈراموں کی ’ملکہ‘ حسینہ معین مداحوں سے بچھڑ گئیں

وہ 1987 تک فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دیتے رہے بعدازاں انہوں نے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی میں بھی کام کیا۔

موسیقی کے حلقوں اور گلوکاروں نے وزیر افضل کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

گلوکار انور رفیع نے کہا کہ وزیر افضل اپنے آپ میں ایک ادارہ تھے اور ان کی موت سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پُر نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور آرٹس کونسل، پنجاب کونسل آف آرٹس اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر نے بھی ان کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغامات جاری کیے۔

تبصرے (0) بند ہیں