پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے ’مثبت کردار ادا' کر سکتے ہیں، سعودی وزیر خارجہ

21 ستمبر 2021
—فائل فوٹو: رائٹرز
—فائل فوٹو: رائٹرز

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کو حل کرنے کے لیے جب بھی ممکن ہوگا ’مثبت کردار ادا‘ کرسکتے ہیں۔

بھارت کے تین روزہ دورے کے دوران اتوار کو دی ہندو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے افغانستان اور سعودی عرب کے بھارت سے تعلقات سمیت متعدد موضوعات پر بات کی۔

مزید پڑھیں: سعودی وزیر خارجہ کی پاک ۔ بھارت مسائل کے پرامن حل کیلئے تعاون کی یقین دہانی

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہم مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن یہ فیصلہ کرنا بھارت اور پاکستان پر منحصر ہے کہ کون سا وقت صحیح ہے‘۔

انٹرویو لینے والے نے جب ان سے پوچھا کہ کیا بھارت اور سعودی عرب کے درمیان ایک مسئلہ، مقبوضہ کشمیر، بھارتی مسلمانوں کی حیثیت اور فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے سعودی زیر قیادت اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے بیانات تھے، کیا انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں اس پر تبادلہ خیال کیا؟ تو سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ’داخلی مسائل‘ ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک-بھارت کشیدگی پر ہمیں تکلیف ہوتی ہے، سعودی وزیرخارجہ

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ان خدشات کو دور کرنا بھارت کے عوام اور حکومت کا کام ہے۔

مقبوضہ کشمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین ’تنازع‘ جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’لہذا ہم جس چیز کی حوصلہ افزائی کریں گے وہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے تاکہ ان مسائل کو مسقتل طور پر حل کیے جاسکے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ’اچھے فیصلے اور اچھی حکمرانی کریں، تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کریں اور ایک ایسا راستہ اپنائیں جو استحکام، سلامتی، اور خوشحالی کا باعث بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کس مشن پر پاکستان آئے؟

انہوں نے جنگ زدہ ملک کو امداد اور مدد فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں بین الاقوامی امداد بنیادی طور پر افغان عوام کے فائدے کے لیے ہے اور اس لیے ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امداد جاری رہنی چاہیے اور ان حالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں