جرمنی کی سب سے بڑی مسجد کو نماز جمعہ کی اذان لاؤڈ اسپیکر پر دینے کی اجازت

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2021
کولون کی میئر ہینری ریکر نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ مؤذن کو اذان کی اجازت دینا ان کے لیے احترام کی علامت ہے — فائل فوٹو / رائٹرز
کولون کی میئر ہینری ریکر نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ مؤذن کو اذان کی اجازت دینا ان کے لیے احترام کی علامت ہے — فائل فوٹو / رائٹرز

جرمنی کے شہر کولون کی انتظامیہ اور مسلم برادری کے درمیان پابندیوں میں نرمی کے معاہدے کے بعد ملک کی سب سے بڑی مسجد کو نماز جمعہ کی اذان لاؤڈ اسپیکر پر دینے کی اجازت دے دی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق دو سالہ معاہدے کے تحت کولون کی تمام 35 مساجد میں دوپہر 12 سے 3 بجے کے درمیان پانچ منٹ تک نماز جمعہ کی اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت ہوگی۔

ان مساجد میں کولون سینٹرل مسجد بھی شامل ہے جو انتہائی دائیں بازوں کی جماعتوں کی جانب سے مسلم مخالف جذبات کا نقطہ آغاز رہنے کے بعد 2018 میں کھول دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: نامحرم خاتون سے ہاتھ نہ ملانے پر مسلمان کو جرمن شہریت نہ دینے کا فیصلہ

جرمنی میں مسلم مخالف جذبات 2015 میں پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد کے بعد شدید ہوگئے تھے۔

کولون کی میئر ہینری ریکر نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ مؤذن کو اذان کی اجازت دینا ان کے لیے احترام کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اس بات کی علامت ہے کہ کولون میں تنوع کو سراہا جاتا ہے اور وہ یہاں موجود ہے‘۔

یہاں ایک بڑی مسجد کی تعمیر کے تنازع کے دوران اس کے حامیوں نے عوام کو یقین دلایا تھا کہ وہ اذان باقاعدگی سے نشر نہیں کریں گے، جو مسلم ممالک میں دن میں پانچ مرتبہ سنی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جرمن حکام کے قومی ہم آہنگی کیلئے مسلمان شہریوں سے رابطے

شہر کا کہنا تھا کہ نماز جمعہ کی اذان دینے والی مساجد کو لاؤڈ اسپیکر کی آواز کے حوالے سے حدود کی پابندی کرنی ہوگی اور پڑوسیوں کو پیشگی بتانا ہوگا۔

واضح رہے کہ جرمنی میں تقریباً 45 لاکھ مسلمان مقیم ہیں جو ملک کا سب سے بڑا مذہبی اقلیتی گروپ ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں