ٹی20 ورلڈکپ میں شامل اہم کھلاڑیوں کا ذکر

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2021

آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2021ء متعدد رکاوٹوں اور تبدیلیوں سے گزر کر بلآخر شروع ہوچکا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور عمان میں منعقد ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں شریک تمام ہی ٹیمیں اس سال ٹی20 کرکٹ کا تاج اپنے سر سجانے کی خواہاں ہیں۔

اپنی اسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے، لہٰذا ہم اس تحریر میں ایسے ہی چند کھلاڑیوں کا ذکر کریں گے جن کی کارکردگی ان کی ٹیم کو چیمپئن بننے سے متعلق خواب کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

بابر اعظم (پاکستان)

تصویر: رائترز
تصویر: رائترز

پاکستانی کپتان بابر اعظم اپنا پہلا ٹی20 ورلڈ کپ ہی بطور کپتان کھیل رہے ہیں جس کی وجہ سے ان پر دوہری ذمہ داری عائد ہوگئی ہے اور ان سے وابستہ توقعات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

بابر اعظم بین الاقوامی ٹی20 کرکٹ میں 61 میچ کھیل چکے ہیں جن میں انہوں نے 46.89 کی اوسط سے 2204 رنز اسکور کیے ہیں۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 130.64 ہے۔

آئی سی سی کی ٹی20 کرکٹ کے بہترین بلے بازوں کی فہرست میں بابر اعظم دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ حال ہی میں ویرات کوہلی اور کرس گیل کو پچھاڑ کر ٹی20 کیریئر میں تیز ترین 7 ہزار رنز مکمل کرنے والے کھلاڑی بن چکے ہیں۔

انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اگر بابر اپنی اسی فارم کے ساتھ میگا ایونٹ میں پرفارم کریں تو وہ پاکستان کو ٹورنامنٹ میں آگے تک لے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

ویرات کوہلی (بھارت)

تصویر: اے پی
تصویر: اے پی

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے اب تک کُل 90 بین الاقوامی ٹی20 میچ کھیلے ہیں جن میں 52.65 کی اوسط سے 3159 رنز اسکور کیے ہیں۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 139.04 ہے۔

آئی سی سی کی بہترین ٹی20 بلے بازوں کی فہرست میں ویرات کوہلی چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔ کوہلی ایک تجربہ کار اور قابلِ بھروسہ بلے باز ہیں جو کسی بھی مشکل وقت میں پچ پر جم جاتے ہیں اور اپنی جارحانہ بلے بازی سے ٹیم کو استحکام دیتے ہیں۔

رواں سال کے ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ میں ویرات کوہلی کی بلے بازی اور ان کی کپتانی ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔

تبریز شمسی (جنوبی افریقہ)

تصویر: اے پی
تصویر: اے پی

تبریز شمسی آئی سی سی کے بہترین ٹی20 باؤلرز کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے اب تک 42 بین الاقوامی ٹی20 میچ کھیلے ہیں جن میں 21.63 کی اوسط اور 6.79 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ 49 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

31 سالہ جنوبی افریقی باؤلر نے گزشتہ کچھ عرصے میں خاصی مقبولیت حاصل کرلی ہے۔ وہ سال 2021ء میں اب تک 28 وکٹیں لے چکے ہیں اور ایک سال میں سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ بنانے کے بہت قریب ہیں۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ وہ نہ صرف اس ٹورنامنٹ میں یہ ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیں گے بلکہ اپنی کارکردگی سے ٹیم کو ٹورنامنٹ میں آگے تک لے جائیں گے۔

مچل مارش (آسٹریلیا)

تصویر: اے پی
تصویر: اے پی

آسٹریلوی آل راؤنڈر مچل مارش نے اپنے کیریئر میں کل 30 بین الاقوامی ٹی20 میچ کھیلے ہیں جن میں انہوں نے 700 رنز اسکور کیے ہیں اور 28 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہی ان کی صلاحیت پر موجود کسی بھی شک کو دُور کردیتے ہیں۔

29 سالہ مچل مارش اس ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کے لیے بہت اہم ثابت ہوں گے۔ وہ نہ صرف بلے بازی میں کمال دکھاتے ہیں بلکہ باؤلنگ میں بھی اہم وکٹیں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اش سوڈھی (نیوزی لینڈ)

تصویر: اے ایف پی
تصویر: اے ایف پی

نیوزی لینڈ کے باؤلر اش سوڈھی اب تک 57 بین الاقوامی ٹی20 میچ کھیل چکے ہیں جن میں انہوں نے 21.72 کی اوسط اور 8.07 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ 73 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

28 سالہ لیگ اسپنر باؤلنگ میں جارحانہ انداز اختیار کیے رکھتے ہیں اور اسی سبب وکٹیں بھی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کافی مشکلات کا سامنا کرکے خود کو دنیا کے سامنے منوایا ہے اور یہ ورلڈ کپ بھی ان کی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک اہم موقع ہوگا۔

اش سوڈھی ساتھی اسپنر مچل سینٹنر کے ساتھ مل کر ٹرافی کی دوڑ میں نیوزی لینڈ کی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

لیام لیونگسٹون (انگلینڈ)

تصویر: پی ایس ایل ٹوئٹر
تصویر: پی ایس ایل ٹوئٹر

انگلش بلے باز لیام لیونگسٹون اب تک 8 بین الاقوامی ٹی20 میچ کھیل چکے ہیں جن میں انہوں نے 34.33 کی اوسط سے 206 رنز اسکور کیے۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 167.47 ہے۔

اگرچہ لیونگسٹون نے انگلینڈ کے لیے اب تک صرف 8 میچ ہی کھیلے ہیں لیکن انہوں نے ان تمام مواقعوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور بہترین کارکردگی کا مظاہر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔

لیونگسٹون دنیا بھر میں کھیلی جانے والی ٹی20 لیگز کا حصہ رہے ہیں اور اسی وجہ سے امید کی جارہی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ماحول میں بھی وہ ٹیم کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔

راشد خان (افغانستان)

تصویر: اے ایف پی
تصویر: اے ایف پی

افغان باؤلر راشد خان نے اب تک کل 51 بین الاقوامی ٹی20 میچوں میں 12.63 کی اوسط اور 6.21 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ 95 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

راشد خان بہترین ٹی20 باؤلرز کی آئی سی سی کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں جو ان کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ اس فہرست میں 5ویں نمبر پر راشد خان کے ہی ہم وطن مجیب رحمٰن موجود ہیں۔ یہ دونوں باؤلر کسی بھی لمحے مخالف ٹیم کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں۔

ونیدو ہسارنگا (سری لنکا)

تصویر: اے ایف پی
تصویر: اے ایف پی

سری لنکن باؤلر ونیدو ہسارنگا اب تک 25 بین الاقوامی ٹی20 میچ کھیل چکے ہیں جن میں انہوں نے 15.47 کی اوسط اور 6.57 کے اکانومی ریٹ کے ساتھ 36 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

ونیدو ٹی20 کرکٹ کے بہترین باؤلرز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں اور گزشتہ 3 سال سے ون ڈے اور ٹی20 کرکٹ میں سری لنکن ٹیم میں شامل ہیں۔ ونیدو باؤلنگ میں جادو جگانے کے ساتھ ساتھ رنز اسکور کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور ڈومیسٹک ٹی20 کرکٹ میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 130 کا ہے۔

رواں سال کے ٹی20 ورلڈ کپ میں سری لنکا کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی جارہی اور سری لنکا کو ٹورنامنٹ میں آگے بڑھانے کی ذمہ داری ونیدو ہسارنگا کے کاندھوں پر ہوگی۔

تبصرے (0) بند ہیں