پنجاب میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے 60 دن کیلئے رینجرز طلب

اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2021
شیخ رشید نے پنجاب میں 60 روز کے لیے رینجرز طلب کرنے کا اعلان کیا—فوٹو: ڈان نیوز
شیخ رشید نے پنجاب میں 60 روز کے لیے رینجرز طلب کرنے کا اعلان کیا—فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پنجاب میں 60 دن کے لیے رینجرز طلب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سندھ کی طرح رینجرز کو کہیں بھی تعینات کرسکتی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ کالعدم تحریک لیبک پاکستان سے مذاکرات کیے اور آج بھی 11 بجے رابطہ ہوا، چھٹی مرتبہ وہ اس دھرنے کی طرف آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اب سے ٹی ایل پی کو عسکریت پسند تنظیم کے طور پر دیکھا جائے گا، فواد چوہدری

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر انہوں نے جلوس عید میلاد النبی ﷺ نکالا تھا اور اس کو دھرنے میں تبدیل کردیا، اس کے باوجود بھی میں سیاسی ورکر ہوں اور چاہتا ہوں ملک میں امن ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر بہت زیادہ دباؤ ہے، غیر ملکی طاقتیں ہم پر پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہیں، غیر ملکی طاقتیں ہماری جوہری اور معیشت پر نظریں جمائے بیٹھی ہے، یہ ان کی چھٹی قسط ہے اور مجبوری کی حالت میں کہہ رہا ہوں کہ یہ اب عسکریت پسند ہوچکے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ سادھوکی میں انہوں نے کلاشنکوف سے پولیس پر فائرنگ کی، پولیس نہتی تھی، ان کے پاس لاٹھیاں تھیں، 3 پولیس جوان شہید ہوگئے اور 70 زخمی ہیں اور ان میں سے 8 کی حالت تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالات کی سنجیدگی اور گہرائی کو دیکھتے ہوئے آرٹیکل 147 کے تحت پنجاب رینجرز کو پنجاب حکومت کی درخواست پر 60 دن کے لیے کراچی کی طرح پورے پنجاب میں نافذ العمل کررہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پنجاب حکومت کو سیکشن 5 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت 60 دن کے لیے اختیار دیتا ہوں، وفاقی کابینہ سے منظوری کے لیے سمری بھیج دی ہے، نوٹیفکیشن جاری کر رہا ہوں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ میں اب بھی ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مسجد رحمت اللعالمین ﷺ واپس چلے جائیں، ہم ناموس رسالت اور ختم نبوت کے بھی سپاہی ہیں لیکن ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے، اگر ان کا ایجنڈا کچھ اور نہ ہوتا تو آج میں پنجاب کو شام 6 بج کر 35 منٹ پر امن وامان رینجرز کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر رہا ہوں، وہ نہ کرتا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت جہاں چاہتی ہے رینجرز کو تعینات کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹی ایل پی کا اسلام آباد مارچ مرید کے پہنچ گیا، تصادم میں پولیس اہلکار شہید

شیخ رشید نے کہا کہ میں نے صبح بھی ان سے کہا تھا کہ ملک کے حالات دیکھیں، ہم فرانس کے سفارت خانے کو بند نہیں کرسکتے اور ان کا سفیر یہاں نہیں ہے، ساری دنیا کے سامنے کہہ رہا ہوں ان کا سفیر یہاں نہیں ہے، وہ کہتے ہیں گوگل سے دیکھتے ہیں مجھے نہیں پتا گوگل سے کیسے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے بحیثیت وزیر داخلہ ان سے کہا کہ فرانس کا سفیر پاکستان میں نہیں ہے، اس سے ثابت ہوا ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے لیکن سیاست دان اپنے دروازے بند نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ بیمار اور ایمبولینس نہ جاسکے، اسکول بند ہوں، ان کا ہم سے وعدہ تھا اور ہم اپنے وعدے پر قائم ہیں، ان کا وعدہ تھا ہم جاتے کے ساتھ دونون اطراف راستے کھول دیں گے لیکن انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے دو دفعہ بلا کر سختی سے ہدایت کی ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والے کے حوالے سے ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کو سختی سے ہدایت کروں جبکہ باہر کے ممالک کے حوالے سے وزارت خارجہ سے بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید تو پولیس کے 3 اہلکار ہوئے ہیں، 70 سے 80 زخمی ہیں اور براہ راست فائرنگ کی گئی، ان کے پاس لاٹھیاں اور آنسو گیس تھے لیکن ایک بڑے خون خرابے سے بچنے کے لیے، مجھے افسوس ہے میں ہمیشہ مولانا فضل الرحمٰن کا نام احترام سے لیتا ہوں اور لیتا رہوں گا کہ مولانا فضل الرحمٰن ملک کی سنجیدگی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ان کو آگے کرکے یہ سمجھ رہے ہیں یہ حکومت کی رٹ چینلج ہوجائے گی اور حکومت کہیں جارہی ہے تو حکومت کہیں نہیں جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ جس تنظیم کو ہم نے کالعدم قرار دیا ہے، ان کے جو لوگ دیکھ رہے ہیں وہ سمجھنے کی کوشش کریں، یہ نہ ہو کہ ان پر بین الاقوامی پابندی لگ جائے اور وہ دہشت گردوں کی عالمی تنظیم میں آجائیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد، راولپنڈی کے علاقے ’ٹی ایل پی‘ مارچ کو روکنے کے لیے سیل

ان کا کہنا تھا کہ پھر ان کے لوگوں کے کیسز ہمارے بس میں نہیں ہوں گے، یہ ساری باتیں میں نے ان کے ساتھ کیں اور ابھی تک کر رہا ہوں، باوجود اس کے کہ میں نے آج کابینہ میں یہ صورت حال پیش کی ہے تو لوگ سمجھتے ہیں میں بہت زیادہ لچک دکھا رہا ہوں۔

شیخ رشید نے کہا کہ یہ میری سیاسی سوچ ہے کہ معاملات اور ان کے دروازے بند نہ ہوں لیکن میں مجبور ہوں، جب پولیس کے 3 جوانوں کی لاشیں کلاشنکوف اور آٹومیٹک رائفل استعمال کریں گے اور پولیس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں تو وہ لاٹھیوں اور آنسو گیس سے کیسے مقابلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس لیے میں نے آج 6 بج کر 35 منٹ پر پنجاب رینجرز کو صوبے کے امن وامان کے لیے پورے پنجاب میں 60 دن کے لیے صوبائی حکومت کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ جہاں چاہیں پنجاب رینجرز کو استعمال کریں اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 5 کے اختیارات بھی حکومت پنجاب کو دیتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں یہ نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کی جان و مال سے اس طرح کھیلا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے معاہدہ کیا اور اس پر ہمارے دستخط ہیں، جس پر ہم قائم ہیں لیکن یہ کہنا کہ یہ اولین ترجیح ہے، ملک کے حالات بڑی عجیب صورت حال سے گزر رہے ہیں، اور اصل مسئلہ یہ نہیں وہ کچھ اور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں کبھی اس تنظیم کے ساتھ شامل نہیں رہا، نہ ان کے جلسے میں گیا اور نہ جلوس میں شریک ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: کسی سفارتخانے کو بند کرنے یا سفارتی عملے کو نکالنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، شیخ رشید

لال مسجد آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جانوں کے جانے سے کوئی خوشی نہیں ہوتی لیکن حکومتیں بالآخر رٹ قائم کرتی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق واپس نہیں جائیں گے تو پھر ملک میں بدامنی کی جو صورت حال ہوگی، پڑھے لکھے لوگ سمجھتے ہیں کہ چھٹی دفعہ آرہے ہیں، مذہب کے جھنڈے تلے آرہے ہیں، جذباتی نعروں سے گریز کریں اس ملک پر ذمہ داری کا وقت ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں