ترسیلات زر سے زیادہ دیر تک ملکی معیشت کے معاملات نہیں چل سکتے، شوکت ترین

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2021
انہوں نے کہا کہ پنیل نے اپنی تجاویز میں بتایا کہ ملک کی درآمد اور برآمدات کے حجم میں بہت فرق ہے—فوٹو: ڈان نیوز
انہوں نے کہا کہ پنیل نے اپنی تجاویز میں بتایا کہ ملک کی درآمد اور برآمدات کے حجم میں بہت فرق ہے—فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سمندر پارپاکستانیوں کی مہربانی ہے جن کی ترسیلات زر کی وجہ سے کئی معاشی مشکلات سے محفوظ ہیں لیکن یہ زیادہ تک نہیں چل سکے گا۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران شوکت ترین نے کہا کہ آج سے 25 سال پہلے ترسیلات زر میں جو فرق 25 فیصد تھا اب وقت کے ساتھ ضرب ہورہا ہے۔

مزیدپڑھیں: سعودی عرب تیل کی خریداری کے لیے پاکستان کو 3.6 ارب ڈالر دے گا، وزیر خزانہ

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہم نے ملکی معیشت میں ہر 5،4 برس بعد عدم استحکام کے حقائق جاننے کے لیے ایک پینل تشکیل دیا تھا جس نے اپنی تجاویز میں بتایا کہ ملک کا پہلا مسئلہ سیونگ ریٹس کا ہے، اتنی بچت نہیں ہوتی جس کی بنیاد پر سرمایہ کاری ہو اور ایسی صورت میں جب سرمایہ کاری ہوگی تو قرض کی بنیاد پر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پنیل نے اپنی تجاویز میں بتایا کہ ملک کی درآمدات اور برآمدات کے حجم میں بہت فرق ہے، برآمدات جی ڈی پی کی محض 8 سے 9 فیصد ہیں جبکہ درآمدات 22 فیصد سے زائد ہے۔

مشیر خزانہ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترسیلات زر کی وجہ سے ملکی معیشت کئی مسائل سے محفوظ ہے لیکن یہ معاملہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ معاشی ترقی کا گراف پائیدار بنیادوں پر ہو، ایسا نہ ہو کہ محض چند سال بعد دوبارہ ترقی کے معیارات تنزلی کا شکار ہوں۔

’پائیدار معاشی ترقی کیلئے ریونیو پر زور دیا‘

شوکت ترین نے کہا کہ ہم نے پائیدار معیشت کے قیام کے لیے سب سے پہلے ریونیو پر زور دیا، اگر 6 سے 8 فیصد معاشی گروتھ درکار ہے تو ریونیو 20 فیصد ہونے چاہیے جبکہ ماضی میں اس مقصد کے حصول کے لیے کبھی سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: شوکت ترین، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ختم کیے بغیر امریکا سے روانہ

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکمت عملی تیار کی اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔

مشیر خزانہ شوکت ترین نے عزم کا اظہار کیا کہ ٹیکس جی ڈی پی کو تقریباً 6 سے 7 سال میں 20 فیصد پر لے کر جائیں گے، مجھے خوشی ہے کہ اس مقصد میں ہم کامیاب ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس میں 32 فیصد گروتھ ہے، ایسا نہیں ہے کہ یہ ایک حصہ میں گروتھ ہے بلکہ یہ مجموعی طور پر تمام شعبوں میں گروتھ کی نشانی ہے۔

مزیدپڑھیں: آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی پر پُرامید ہوں، شوکت ترین

شوکت ترین نے امید ظاہر کی کہ رواں سال ریونیو تقریباً 9 فیصد سے ساڑھے 11 فیصد تک جائیں اور آئند برس 14 فیصد پر جائیں۔

’آئی ٹی کو آئندہ 6 سال میں 50 ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں شعبہ زراعت کو نظر انداز کیا گیا جس کے باعث یہاں خوارک کا بحران پیدا ہوا، اس مرتبہ بہت توجہ دے رہے ہیں، کاٹن میں غیرمعمولی بہتری آئی ہے، شعبہ زراعت میں 11 سو ارب روپے آئے ہیں، جو ایک قسم کی خوشحالی ہے۔

ایکسپورٹ کو بڑھانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی ختم کردی تاکہ مقامی صنعت ترقی کریں، ایکسپورٹ تقریباً 32 فیصد سے بڑھ رہی ہیں، شعبہ آئی ٹی میں 47 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی اور اس مرتبہ 75 فیصد پر لے جانے کا پروگرام ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار منصوبہ بندی کے ساتھ شعبہ آئی ٹی کو آئندہ 6 سال میں 50 ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں، یہ وہ شعبہ ہے جو ہماری درآمدات اور برآمدات کے حجم میں فرق کو پورا کرسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے قرض سے متعلق پاکستانی ڈیٹا کی توثیق کی ہے، شوکت ترین

شوکت ترین نے کہا کہ 40 لاکھ گھرانوں کو پائیدار ترقی میں شامل کرنے کے لیے انہیں زراعت میں بلاسود قرضے دیں گے، شہری علاقوں میں بزنس کے لیے قرضے دیں گے، انہیں صحت کارڈ ملے۔

’آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق جلد خوشخبری ملے گی‘

انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا پروگرام غیر یقینی صورتحال پیدا کررہا ہے، ہم اس منزل پر تقریباً پہنچ چکے ہیں، اس خوشخبری کا اعلان بہت جلد آئی ایم ایف ہی کرے گا۔

شوکت ترین نے محفوظ ذخائر میں 3 ارب ڈالر اور مؤخر ادائیگیوں پر ایک ارب 20 کروڑ سے ایک ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کے تیل کی فراہمی سے متعلق فیصلے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان چیزی کی ضورت تھی ریاض نے ہماری مدد کی۔

انہوں نے کہا کووڈ 19 کی وجہ سے عالمی سپلائی لائن متاثر ہوئی جس کے باعث کئی اشیا کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوگیا، عوام مہنگائی سے پریشان ہے، جو ترقی ہم لانے کی کوشش کررہے ہیں اس سے ان کی قوت خرید آہستہ آہستہ ہی بڑھ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مہنگائی کو نیچے لانے کی کوشش کررہے ہیں، ہم نے پیٹرول کے ٹیکس کم کردیے جو مجموعی طور پر تقریباً 60 فیصد ہے۔

مزیدپڑھیں: حکومت کے آئی ایم ایف سے مذاکرات ناکام ہونے کی بات ’بالکل غلط‘ ہے، شوکت ترین

شوکت ترین نے کہا کہ نیم متوسط گھرانوں کے لیے مہنگائی کا اثر کم کرنے کے لیے احساس پروگرام شروع کیا ہے جس سے 13 کروڑ افراد مستفید ہوں گے تاکہ گھی، تیل، چینی اور دیگر ضروری اشیا پر 30 فیصد سبسڈی ملے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بڑی مشکل تیل، اسٹیل، کوئلہ پر ہے جس کا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے، ہماری کوشش ہے کہ عام آدمی کو سہولت ملے۔

’آئی ایم ایف پروگرام کے بعد سٹے بازوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا‘

ایک سوال کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد سٹے بازوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا، اسٹیٹ بینک کو کہا ہے کہ ڈالر ریٹ دونوں طرف ایک جیسا ہونا چاہے ورنہ سٹے باز تو فائدہ اٹھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی کارکردگی پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، وہ ایک خودمختار ادارہ ہے اور جب مرکزی بینک کے گورنر سے ملیں تو ڈالر کی قیمتوں فرق کے بارے میں پوچھئے گا۔

’عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھی تو پیٹرول پر بھی اثر پڑے گا‘

شوکت ترین نے کہا کہ اگر عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت بڑھی تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر قیمیں بڑھیں گی کیونکہ اب ہمارے پاس پیٹرول موجود نہیں ہے کیونکہ پیٹرول پر ٹیکس 17 فیصد سے 1.6 فیصد پر لاچکا ہوں۔

تبصرے (0) بند ہیں