برطانیہ، پاکستان نے غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2021
میتھیو رائکرافٹ اور وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے برطانیہ-پاکستان ریڈمشنز معاہدے پر مذاکرات کو حتمی شکل دی — فائل فوٹو / اے پی پی
میتھیو رائکرافٹ اور وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے برطانیہ-پاکستان ریڈمشنز معاہدے پر مذاکرات کو حتمی شکل دی — فائل فوٹو / اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ ’ریڈمشنز معاہدہ‘ پر مذاکرات کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی برطانیہ میں غیر قانونی طور پر قیام کی وجہ سے وطن واپس لایا جاسکتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اگست کے شروع میں ملک کے محکمہ داخلہ کی جانب سے طبی بنیادوں پر برطانیہ میں اپنے قیام کو مزید بڑھانے سے انکار کے بعد نواز شریف نے برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں اپیل دائر کی تھی۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی واپسی کیلئے قانونی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت

بریگزٹ کے بعد نئے انتظامات تک پہنچنے کے لیے برطانیہ کے ہوم آفس کے مستقل سیکریٹری میتھیو رائکرافٹ نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا جس میں غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کے لیے ایک معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔

میتھیو رائکرافٹ اور وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے برطانیہ-پاکستان ریڈمشنز معاہدے پر مذاکرات کو حتمی شکل دی، جس سے غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا جن کے ملک میں رہنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں فیصلے سے متعلق کہا گیا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی وفاقی کابینہ کو آنے والے ہفتوں میں پیش کیا جائے گا جس پر کابینہ کی منظوری سے رواں سال کے آخر تک عملدرآمد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی واپسی کے متعلق جاوید لطیف کا دعویٰ مسترد کردیا

یہ معاہدہ برطانوی اور پاکستانی حکام کے درمیان مجرمانہ ریکارڈ کا اشتراک کرنے کے قابل بنائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان قانون نافذ کرنے کے لیے مؤثر تعاون میں مدد ملے۔

ہائی کمیشن نے کہا کہ برطانیہ، پاکستان کے ساتھ گہرے اور باہمی فائدہ مند تعلقات کے حصے کے طور پر ہجرت پر ایک مؤثر شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

اپنے دورے کے دوران میتھیو رائکرافٹ نے برطانوی ہوم آفس کے نئے امیگریشن سسٹم کے بارے میں بھی بات کی جو برطانیہ کا سفر کرنے کے خواہشمندوں کے لیے برابری کے مواقع فراہم کرے گا۔

ہائی کمیشن نے کہا کہ پاکستانی طلبہ نئے گریجویٹ راستوں سے مستفید ہوں گے جس سے انہیں برطانیہ کی جاب مارکیٹ میں ہنر مند کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو فوج نے پال کر سیاست دان بنایا، وزیراعظم

شہزاد اکبر نے بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں دونوں ممالک کے درمیان بین الوزارتی ملاقاتوں میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔

اس سے قبل برطانوی حکومت، پاکستان واپس بھیجے جانے والے لوگوں کے ڈیٹا اور دیگر ریکارڈ فراہم نہیں کرتی تھی۔

انہوں نے جنسی جرائم کے الزام میں گرفتار اور پاکستان بےدخل کیے گئے لوگوں کی مثال دیتے ہوئے مزید کہا کہ ان کے جرائم کا ڈیٹا اور دیگر اہم معلومات پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے معاہدے کے تحت جن لوگوں کے ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے، جنہوں نے غیر قانونی طور پر قیام کیا تھا اور جن پر جنسی مجرموں کے طور پر کچھ کا ذکر کیا گیا تھا، انہیں پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا اور ان کی تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔

تبصرے (0) بند ہیں