حوثی باغیوں کا سعودی عرب کے شہروں، آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ

20 نومبر 2021
سعودی اتحادیوں نے ایک روز قبل حوثی باغیوں کے13 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا—فائل/فوٹو: رائٹرز
سعودی اتحادیوں نے ایک روز قبل حوثی باغیوں کے13 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا—فائل/فوٹو: رائٹرز

یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے متعدد شہروں اور جدہ میں آرامکو پر 14 ڈرونز فائر کیے۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق حوثی باغیوں کے عسکری ترجمان یحیٰ ساریا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گروپ نے جدہ میں آرامکو کی ریفائنریز، ریاض، جدہ، ابھا، جیزان اور ناجران میں فوجی اہداف پر حملہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کے ابھا ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں 8 افراد زخمی

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یحیٰ ساریا کے بیان میں نقائص ہیں کیونکہ انہوں نے جدہ ایئرپورٹ کا نام غلط بتایا اور کنگ خالد بیس کا مقام بھی غلط بتایا حالانکہ یہ ملک کے جنوب میں واقع ہے جبکہ ترجمان نے اس کو ریاض میں بتایا۔

آرامکو نے خبرایجنسی کو رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس حوالے سے جلد ہی بیان دیا جائے گا۔

دوسری جانب سعودی عرب کی سرکاری خبرایجنسی سعودی پریس نے رپورٹ کیا کہ یمن میں سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثی باغیوں کے 13 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اتحادیوں نے بتایا کہ کارروائی میں یمن کے صوبوں صنعا، صعدا اور مارب میں حوثی باغیوں کے اسلحے کا ڈپو، فضائی دفاعی نظام اور ڈرونز کمیونیکیشن نظام تباہ کردیے گئے۔

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے اتحادیوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقےکی طرف فائر کیے گئے ڈرونز ناکام بنا دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ باغی دو بلیسٹک میزائل داغنے میں ناکام ہوئے اور وہ یمن کے اندر ہی گر گئے۔

یہ بھی پڑھیں: یمن سے سعودی عرب کے سرحدی شہروں پر میزائل حملے

خیال رہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر یمن سے مسلسل حملے ہوتے رہے ہیں جس میں ڈرونز اور میزائل بھی شامل ہیں، جو یمن میں 2015 میں سعودی اتحادیوں کے حملے کے بعد سے جاری ہیں۔

باغیوں کی جانب سے آرامکو کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور مارچ میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب یمن میں اقوام متحدہ اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کوششیں بھی معطل کردی گئی ہیں۔

رواں برس اگست میں سعودی عرب کے صوبہ اسیر میں واقع ابھا ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے تھے اور ایک طیارے کو نقصان پہنچا تھا۔

یمن کی جنگ 2014 میں شروع ہوئی تھی جب باغیوں نے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمال میں واقع بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تھا، سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے کئی مہینوں بعد حوثیوں کے خاتمے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کے لیے مداخلت کی۔

اس جنگ نے تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دنیا کے بدترین موجودہ انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں