پی ٹی آئی سینیٹر کی ٹی ایل پی سربراہ سے ‘خیرسگالی’ ملاقات، رہائی پر مبارک باد

20 نومبر 2021
سعد رضوی کو پی ٹی آئی سینیٹر نے گلدستہ پیش کیا—فوٹو: ڈان نیوز
سعد رضوی کو پی ٹی آئی سینیٹر نے گلدستہ پیش کیا—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سینیٹر اعجاز چوہدری نے لاہور میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی سی ‘خیرسگالی’ ملاقات کی اور جیل سے رہائی پر انہیں مبارک باد دی۔

ٹی ایل پی کے ترجمان ابن اسمٰعیل نے مسجد رحمت اللعالمیں ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‏اعجاز چودھری نے سربراہ ٹی ایل پی کو رہائی پر مبارک باد اور گلدستہ پیش کیا۔

مزید پڑھیں: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کوٹ لکھپت جیل سے رہا

ان کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے سینیٹر نے ٹی ایل پی کے بانی خادم حسین رضوری کی قبر پر بھی حاضری دی جن کا عرس 21 نومبر مسجد رحمت اللعالمین میں جاری ہے۔

ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا تھا کہ ‏اعجاز چودھری ذاتی حیثیت میں ملنے آئے تھے اور سیاسی بات چیت کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعجاز چوہدری نے کہا کہ ٹی ایل پی کے سربراہ سے ذاتی حیثیت میں وعدے کے مطابق ملاقات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت سے رابطوں میں رہیں، جن کا ماضی مختلف ہوسکتا ہے۔

پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات سے خوش گوار تعلقات برقرار رکھنا ریاستی ذمہ داری ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور معاشرے میں امن، برداشت اور تحمل کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا تو میں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا اور اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے امید اور دعا کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ اس پر عمل کیا گیا اور آج میں ان سے ملنے کے لیے یہاں موجود ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول سے خارج

یاد رہے کہ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان 31 اکتوبر کو معاہدہ طے پایا تھا جبکہ اس سے قبل کئی دنوں تک مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں اور کشیدگی جاری رہی تھی۔

احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار اور ٹی ایل پی کے کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔

دونوں جانب سے معاہدے کو خفیہ رکھاگیا ہے لیکن سامنے آنے والی معلومات کےمطابق یہ طے پایا تھا کہ ٹی ایل پی سے کالعدم کی قدغن ختم کردی جائے گی۔

معاہدے میں ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور دیگر کارکنوں کی رہائی کی شرط بھی شامل تھی، جن میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت قائم کیے گئے مقدمات بھی شامل تھے۔

معاہدے کے ایک ہفتے بعد 7 نومبر کو وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی سے انسداد دہشت گردی کے تحت عائد پاپندی ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

بعد ازاں 18 نومبر کو سعدحسین رضوی کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کردیا گیا تھا اور اس سے قبل حکومت پنجاب نے ان کا نام فورتھ شیڈول سے بھی خارج کردیا تھا۔

ٹی ایل پی کے ترجمان مفتی عابد نے رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعد رضوی رہائی کے بعد پارٹی کے مرکز مسجد رحمت اللعالمین پہنچ گئے ہیں اور ٹی ایل پی کے بانی خادم حسین رضوی کی پہلی برسی کےموقع پر 20 اور21 نومبر کو عرس ہوگا۔

سعد رضوی کی گرفتاری

یاد رہے کہ رواں سال 12 اپریل کو سعد رضوی کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے لاہور سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے کابینہ سے منظوری کے بعد ٹی ایل پی پر عائد پابندی ہٹادی

ان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس نے بعدازاں پر تشدد صورت اختیار کرلی تھی، جس کے پیش نظر حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کردی تھی۔

حافظ سعد حسین رضوی کو ابتدائی طور پر 3 ماہ تک حراست میں رکھا گیا اور پھر 10 جولائی کو دوبارہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک وفاقی جائزہ بورڈ تشکیل دیا گیا جس میں 23 اکتوبر کو ان کے خلاف حکومتی ریفرنس لایا گیا۔

قبل ازیں یکم اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے سعد رضوی کی نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے خلاف حکومت نے اپیل دائر کی تھی تاہم لاہور ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ ابھی تک تشکیل نہیں دیا گیا۔

بعدازاں حکومت پنجاب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے 12 اکتوبر کو سنگل بینچ کے حکم پر عمل درآمد معطل کردیا تھا اور ڈویژن بینچ کے نئے فیصلے کے لیے کیس کا ریمانڈ دیا تھا۔

ٹی ایل ایل پی احتجاج

19 اکتوبر کو عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر نکالے گئے جلوس کو جماعت نے اپنے قائد حافظ سعد رضوی کی رہائی کے لیے دھرنے کی شکل دے دی تھی۔

مزید پڑھیں: پنجاب: 214 ٹی ایل پی کارکنان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل

بعدازاں 3 روز تک لاہور میں یتیم خانہ چوک پر مسجد رحمت اللعالمین کے سامنے دھرنا دینے کے بعد ٹی ایل پی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

23 اکتوبر کو لاہور میں کالعدم ٹی ایل پی کے قائدین اور کارکنوں کے پولیس کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

بعدازاں 28 اکتوبر کو بھی مریدکے اور سادھوکے کے قریب ٹی ایل پی کے مشتعل کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 4 پولیس اہلکار شہید اور 263 زخمی ہوگئے تھے۔

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات ہوئے لیکن فریقین کے درمیان مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

حکومت نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے کو بند کرنے کے ٹی ایل پی کے مطالبے کو پورا نہیں کر سکتی، ساتھ ہی انکشاف کیا تھا کہ ملک میں فرانس کا کوئی سفیر نہیں ہے۔

اس کے علاوہ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ ٹی ایل پی کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیا جائے گا اور اسے کچل دیا جائے گا جیسا کہ اس طرح کے دیگر گروپس کو ختم کر دیا گیا ہے۔

تاہم 30 اکتوبر کو ایک مرتبہ پھر ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور بعد ازاں مفتی منیب الرحمٰن اور مولانا بشیر فاروقی کی ثالثی میں مذاکرات کامیاب ہوئے اور ٹی ایل پی نے وزیرآباد میں اپنا دھرنا ختم کردیا تھا۔

رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے دھرنا ختم کیے جانے کے اگلے روز اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیر مملکت علی محمد کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان فرانسیسی سفارتکار کی بے دخلی اور اس کے سفارتخانے کو بند کرنے کے معاملے پر فریقین کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے بتایا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات آئندہ ہفتے سامنے آجائیں گی جبکہ معاملات کی نگرانی کے لیے تین رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد کریں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں