فیس ماسک کے بغیر سماجی دوری کا کوئی فائدہ نہیں، تحقیق

24 نومبر 2021
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

فیس ماسک کے بغیر 2 میٹر کی سماجی دوری کے اصول پر عمل کرنا کووڈ 19 سے بچانے کے لیے بے مقصد ہوتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ کے مریض اگر فیس ماسک کا استعمال نہ کریں تو وہ 2 میٹر سے زیادہ دور موجود افراد (فیس ماسک کے بغیر) کو بھی اس بیماری کا شکار بناسکتے ہیں چاہے وہ کھلی فضا میں ہی کیوں نہ ہو۔

سماجی دوری کے لیے 2 میٹر کی دوری کا اصول کورونا وائرس کی وبا کے آغاز پر بنایا گیا تھا مگر بیماری سے تحفظ کے لیے اس کی افادیت پر اکثر ملے جلتے تحقیقی نتائج سامنے آتے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں کمپیوٹر ماڈلنگ کے ذریعے جانچ پڑتال کی گئی کہ کووڈ کا مریض کھانسی کے ذریعے وائرل ذرات کو کتنی دور تک پہنچا سکتا ہے۔

محققین نے کہا کہ نتائج سے موسم سرما کی آمد کے ساتھ ویکسینیشن، چار دیواری کے اندر ہوا کی نکاسی کے اچھے نظام اور فیس ماسک کے استعمال کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ لوگوں کی کھانسی سے خارج ہونے والے ذرات کے پھیلاؤ کا دائرہ مختلف ہوتا ہے۔

درحقیقت فیس ماسک استعمال نہ کرنے والے افراد کی کھانسی سے خارج ہونے والے بڑے ذرات قریبی سطح پر گرجاتے ہیں جبکہ چھوٹے ذرات ہوا میں معطل بھی رہ سکتے ہیں یا 2 میٹر سے زیادہ دور بھی تیزی سے جاسکتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ تحقیق میں ثابت ہواک ہ انفرادی طور پر ذرات کے پھیلاؤ کی شرح مختلف ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر بار جب ہم کھانستے ہیں تو ممکنہ طور پر ہر بار مختلف مقدار میں سیال کو خارج کرتے ہیں، تو اگر کوئی فرد کووڈ سے متاثر ہو تو وہ بہت زیادہ یا بہت کم وائرل ذرات کو خارج کرسکتا ہے، اسی طرح ہر کھانسی کے ساتھ ان کے پھیلنے کا دائرہ ہر بار بھی مختلف ہوسکتا ہے۔

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ گھر سے باہر کسی بھی عمارت کے اندر وہ فیس ماسک کا استعمال لازمی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سب ہی معمول کی زندگی پر لوٹنے کے لیے بے قرار ہیں مگر ہم لوگوں کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ چار دیواری جیسے دفاتر، کلاس رومز اور دکانوں میں فیس ماسکس کا استعمال کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک وائرس ہمارے ارگرد موجود ہے، تو بہتر ہے کہ احتیاط کرکے خود کو محفوظ رکھیں۔

محققین کی جانب سے اب مخصوص مقامات جیسے یونیورسٹیوں کے اندر لیکچر ہالز میں تحقیق جاری رکھنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

اس سے قبل لیبارٹری ٹیسٹوں اور مشاہداتی تحقیقی رپورٹس میں دریافت ہوا تھا کہ فیس ماسک کووڈ کے مریضوں کے منہ سے 80 فیصد وائرل ذرات کو بلاک کردیتے ہیں اور ان کو پہننے والوں کو بھی وائرل ذرات سے 50 فیصد تک تحفظ ملتا ہے۔

مگر حقیقی دنیا میں ہونے والی تحقیق رپورٹس میں بتایا گیا کہ فیس ماسک کا استعمال کیسز کی شرح میں نمایاں کمی لاتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے نتائج طب یرجیدے جرنل فزکس آف فلوئیڈز میں شائع ہوئے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں