تبصروں سے فلم انڈسٹری کو نقصان نہیں پہنچتا، زارا ترین

اداکارہ نے مصطفیٰ کی جگہ مصافا لکھ دیا—اسکرین شاٹ
اداکارہ نے مصطفیٰ کی جگہ مصافا لکھ دیا—اسکرین شاٹ

ماڈل و اداکارہ زارا ترین نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ تبصروں سے فلموں یا سینما انڈسٹری کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور ساتھ ہی انہوں نے اداکار فہد مصطفیٰ کو اپنی رائے پر خاموش رہنے کا بھی حکم دے دیا۔

فہد مصطفیٰ نے چند دن قبل بلاگرز اور فلموں پر تبصرے لکھنے والے افراد کو اپیل کی تھی کہ وہ فلموں پر اچھے یا برے تبصرے لکھنا چھوڑ دیں اور شائقین کو فلم دیکھنے یا نہ دیکھنے کا فیصلہ خود کرنے دیں۔

فہد مصطفیٰ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ بلاگرز کے اچھے یا برے تبصرے فلم اور سینما انڈسٹری کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور پاکستانی فلم انڈسٹری ایسا نقصان برداشت نہیں کر سکتی۔

اگرچہ فہد مصطفیٰ کی بات سے کئی اداکاروں نے اتفاق کیا تھا مگر اداکارہ زارا ترین نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جہاں تک ان کا خیال ہے کہ تبصروں سے فلموں اور سینما انڈسٹری کو نقصان نہیں پہنچتا۔

اداکارہ کے مطابق تبصروں سے نہیں البتہ مفت میں فلمیں کرنے سے انڈسٹری کو نقصان ضرور پہنچتا ہے اور یہ کاروباری اصولوں اور مارکیٹنگ کے لیے بھی خراب بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فہد مصطفیٰ کی فلموں پر تبصرہ لکھنے والے افراد سے درخواست

ساتھ ہی انہوں نے فہد مصطفیٰ کو جھاڑ پلاتے ہوئے انہیں خاموش رہنے کا بھی کہا لیکن انہوں نے غلطی سے انگریزی میں مصطفیٰ کو مفاسا لکھ دیا، جس پر لوگوں نے ان کے بیان کا مذاق بھی اڑایا۔

لوگوں کی جانب سے مذاق کیے جانے کے بعد زارا ترین نے اپنی ایک اور انسٹاگرام اسٹوری میں غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے مصطفیٰ کی جگہ مفاسا لکھنے پر معذرت بھی جو کہ 1994 کی معروف اینیمیٹڈ فلم لائن کنگ کا ایک کردار تھا۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

زارا ترین نے کردار ’مفاسا‘ کا نام استعمال کرنے پر معذرت کے ساتھ ہی اداکار کو بغیر نام لیے جھاڑ بھی پلادی اور کہا کہ اس (مفاسا) کا نام ایک منہ پھٹ، غیر پیشہ ور اور بدتمیز شخص کے لیے استعمال کرنا بلاجواز تھا۔

زارا ترین نے مفاسا نامی کردار کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا ’مقصد مفاسا کی توہین کرنا نہیں تھا، مفاسا ایک بہترین کردار ہے، جس نے سب کو محظوظ کیا اور وہ بااصول کردار بھی رہا ہے‘۔

مزید پڑھیں: دو سال بعد پہلی پاکستانی فلم ’کھیل کھیل میں‘ ریلیز

خیال رہے کہ مفاسا کے کردار کی فلم ’لائن کنگ‘ کو اب تک کی کامیاب ترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کردار کو کافی سراہا اور پسند بھی کیا جاتا ہے۔

فہد مصطفیٰ نے حال ہی میں بلاگر کو تبصرے نہ لکھنے کی اپیل ایک ایسے وقت میں کی تھی جب کہ ملک بھر میں 19 نومبر کوتقریبا 2 سال بعد سینما کھلے ہیں،جو پاکستان بھر میں مارچ 2020 میں کورونا کے پیش نظر بند کردیے گئے تھے۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

ملک میں تقریبا دو سال بعد 19 نومبر کو پہلی پاکستانی فلم ’کھیل کھیل میں‘ کو سینما گھروں میں ریلیز کیا گیا تھا، جس کی کہانی ‘سقوط ڈھاکا‘ کے گرد گھومتی ہے اور اسے کافی سراہا جا رہا ہے۔

’کھیل کھیل میں‘ کی ہدایات نبیل قریشی نے دی ہیں اور اسے فضا علی میرزا نے پروڈیوس کیا ہے جب کہ سجل علی اور بلال عباس سمیت علی ظفر، شہریار منور اور جاوید شیخ، منظر صہبائی اور ثمینہ احمد سمیت دیگر اداکاروں نے کردار ادا کیے ہیں۔

فلم کی کہانی ’سقوط ڈھاکا‘ کے پس منظر کے گرد گھومتی ہے، فلم میں یونیورسٹی کے کچھ طلبہ سقوط ڈھاکا پر تھیٹر پیش کرکے بعض حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر انہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

فلم میں پاکستان ٹوٹنے اور بنگلادیش بننے کے واقعات کو فکشنل انداز میں دکھایا گیا ہے جب کہ ڈھاکا میں پھنس کر رہ جانے والے پاکستانیوں کی حالت زار بھی دکھائی گئی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں