افغانستان سے متعلق تحقیقات: عالمی عدالت کے پراسیکیوٹر کا امریکا کو خارج کرنے کا دفاع

07 دسمبر 2021
امریکی جرائم کے بارے میں آئی سی سی کی افغان تحقیقات نے واشنگٹن کو مشتعل کیا تھا — فوٹو: آئی سی سی ٹوئٹر
امریکی جرائم کے بارے میں آئی سی سی کی افغان تحقیقات نے واشنگٹن کو مشتعل کیا تھا — فوٹو: آئی سی سی ٹوئٹر

بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے امریکا کو افغانستان کے حوالے سے تحقیقات سے خارج کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اور شدت پسند داعش کی طرف سے ’بدترین جرائم‘ کیے گئے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دائیں بازو کے گروپوں نے ستمبر میں کریم خان کے امریکی افواج کے خلاف تحقیقات سے قبل افغانستان کے نئے حکمرانوں اور داعش خراسان کے خلاف تحقیقات پر توجہ مرکوز کرنے کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔

دی ہیگ میں آئی سی سی ممالک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کریم خان نے کہا کہ ’میں نے ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے کہ شدت، پیمانے اور حد کے لحاظ سے طالبان اور داعش کی جانب سے بدترین جرائم کیے گئے‘۔

برطانوی پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’میں طالبان اور داعش کے خلاف تحقیقات کو ترجیح دوں گا اور میں نے ججوں سے ان تحقیقات کی اجازت مانگی ہے‘۔

امریکی جرائم کے بارے میں آئی سی سی کی افغان تحقیقات نے واشنگٹن کو مشتعل کیا تھا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو کریم خان کے پیش رو فاتو بینسوڈا پر پابندیاں عائد کرنے پر اکسایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے انخلا اور امریکا کی ویتنام جنگ میں ناکامی کا موازنہ

دنیا کی واحد مستقل جنگی جرائم کی عدالت نے 2006 میں افغانستان میں ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور بینسوڈا نے 2017 میں ججوں سے کہا تھا کہ انہیں مکمل تحقیقات کا اختیار دیا جائے۔

بینسوڈا نے کہا تھا کہ انہیں طالبان اور امریکی افواج کی طرف سے افغانستان اور اور سی آئی اے کی جانب سے بیرون ملک موجود خفیہ حراستی مراکز میں جنگی جرائم کےارتکاب کا ’معقول‘ شبہ ہے۔

کابل میں اس کی حکومت نے 2020 کے اوائل میں عدالت سے کہا تھا کہ وہ اپنی انکوائری کو روک دے، کیوں کہ جنگی جرائم کی مقامی سطح پر حکومت خود تحقیقات کر رہی ہے۔

تاہم کریم خان کا ستمبر میں ججوں سے تحقیقات کو دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگست میں طالبان کے قبضے کا مطلب ہے کہ جنگی جرائم کی مزید تفتیش صحیح طریقے سے نہیں ہوگی۔

ججوں نے دوبارہ تحقیقات کا آغاز کرنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے مزید وضاحت طلب کی ہے کہ افغانستان میں سرکاری طور پر کون انچارج ہے۔

برطانوی پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ سوڈان میں حالیہ بغاوت کے باعث ’تھوڑا وقفہ‘ آیا تھا، لیکن انہیں امید ہے کہ ان کی ٹیم وہاں جنگی جرائم کی تحقیقات جاری رکھنے کے لیے جلد ہی واپس آجائے گی۔

کریم خان نے اگست میں خرطوم کا دورہ کیا تھا تاکہ دارفر تنازع پر سابق آمر عمر البشیر کے خلاف نسل کشی کے مقدمے کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے جائیں۔

پراسیکیوٹر کریم خان نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایسے مقدمات پر توجہ مرکوز کریں جن میں سزا سنانے کا امکان ہے اور ان مقدمات کو چھوڑ دیا جائے جہاں کامیاب پراسیکیوشن کا امکان نہیں ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں