جسٹس عائشہ ملک نے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کا حلف اٹھالیا

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2022
چیف جسٹس نے جسٹس عائشہ ملک سے حلف لیا—تصویر: سپریم کورٹ
چیف جسٹس نے جسٹس عائشہ ملک سے حلف لیا—تصویر: سپریم کورٹ

جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کے جج کے عہدے کا حلف اٹھا کر پاکستان کی تاریخ میں عدالت عظمیٰ کی پہلی خاتون جج بن گئیں۔

تقریب حلف برداری سپریم کورٹ میں منعقدہ جس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے جسٹس عائشہ ملک سے بطور سپریم کورٹ جج حلف لیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک اپنی قابلیت کی بنیاد پر جج بنی ہیں، ہم کسی چیز کا کریڈٹ نہیں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج مقرر، نوٹیفکیشن جاری

اس موقع پر صحافی نے چیف جسٹس سے صحافی نے سوال کیا کہ جسٹس عائشہ ملک کے نام پر بطور جج غور کیا گیا یا بحیثیت خاتون؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 'خاتون'۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی خاتون جج سپریم کورٹ میں تعینات ہوئی ہیں جو سب کے لیے خوشی کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پہلی مرتبہ سپریم کورٹ میں آبادی کا حقیقی معنوں میں عکس نظر آئے گا، یہ بہت پُر مسرت موقع ہے۔

تقریب حلف برداری میں سپریم کورٹ کے ججز، اٹارنی جنرل فار پاکستان، سینیئر وکلا، لا افسران اور لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے افسران نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن نے کثرت رائے سے لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ میں بطور جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔

مزید پڑھیں: جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عائشہ ملک کے سپریم کورٹ میں تقرر کی منظوری دے دی

جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے حوالے سے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن نے تاریخی فیصلہ کیا یے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کی سپریم کورٹ کے جج کے طور پر تقرری ہوئی۔

بعدازاں 22 جنوری کو صدر مملکت کی منظوری کے بعد وفاقی وزارت قانون اور انصاف نے جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کئی ماہ سے جاری بحث کے بعد ہوئی جہاں کئی ماہرین کا خیال تھا کہ یہ سینیارٹی کے اصول کی بنیاد کی خلاف ورزی ہے کیونکہ وہ لاہور ہائی کورٹ میں چوتھے نمبر پر سینئر جج تھیں۔

ان کی تعیناتی کے حق میں دلائل دینے والوں کا مؤقف تھا کہ آئین پاکستان کے تحت سپریم کورٹ میں جج تعیناتی کے لیے سنیارٹی کا اصول نہیں ہے اور ملک کی تاریخ میں صوبائی ہائی کورٹس سے ججوں کو سنیارٹی کو مدنظر رکھے بغیر تعینات کیا جاچکا ہے۔

قبل ازیں ستمبر 2021 میں منعقدہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کے نام کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔

جسٹس عائشہ ملک کا تعارف

جسٹس عائشہ ملک 1966 میں لاہور میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم پیرس اور نیویارک سے حاصل کیں اور پھر کراچی گرامر اسکول سے سینئر کیمبرج مکمل کیا۔

انہوں نے لاہور میں پاکستان کالج آف لا سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر ایل ایل بی کرنے کے لیے ہارورڈ لا اسکول کیمبرج، میساچیوسٹیس، امریکا گئیں جہاں انہیں 1998-1999 میں لندن ایچ گیمن کی فیلو نامزد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمانی پینل نے جسٹس عائشہ ملک کے سپریم کورٹ میں تقرر کی منظوری دےدی

جسٹس عائشہ ملک لاہورہائی کورٹ میں جج تعینات ہونے تک رضوی، عیسیٰ، آفریدی اور اینگل لا فرم کے ساتھ پہلے سینئر ایسوسی ایٹ اور پھر فرم کے لاہور دفتر میں انچارج کے طور پر کام کرتی رہیں۔

وہ 2012 میں لاہور ہائی کورٹ کی جج تعینات ہوئی تھیں اور اس وقت وہ چوتھی سینئر ترین جج کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

انہیں بینکنگ، این جی اوز، مائیکرو فنانس اور اسکلز ٹریننگ پروگرامز کی ماہر وکیل تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے تحقیقی کام کیا اور پنجاب یونیورسٹی میں بینکنگ لا پڑھایا اور کالج آف اکاؤنٹنگ اور مینیجمنٹ سائنسز کراچی میں مرکنٹائل لا پڑھاتی رہی ہیں۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں