کورونا وائرس کسی لیبارٹری سے نہیں بلکہ ووہان مارکیٹ سے پھیلا، تحقیق

27 فروری 2022
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس کسی لیبارٹری سے نہیں بلکہ چین کے شہر ووہان کی ایک وائلڈ لائف مارکیٹ سے پھیلا۔

یہ بات بین الاقوامی سائنسدانوں کی 2 بڑی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آئی۔

کورونا وائرس کہاں سے آیا اور کس طرح پھیلا جیسے سوالات تنازعات کا باعث بنے ہیں کیونکہ امریکا کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے گئے کہ یہ وائرس چین کی کسی لیبارٹری سے لیک ہوا۔

مگر اب نئی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ وائرس ووہان کی مارکیٹ سے پھیلا۔

ایک تحقیق میں شامل ایریزونا یونیورسٹی کے مارہ مائیکل ووربے نے بتایا کہ جب آپ تمام شواہد کو اکٹھا کرکے دیکھیں تو غیرمعمولی حد تک واضح تصویر نظر آتی ہے کہ یہ وبا ووہان کی مارکیٹ سے شروع ہوئی۔

ایک تحقیق کی سمری میں بتایا گیا کہ جغرافیائی طور پر کووڈ 19 کے اولین کیسز اور زندہ جانوروں کی مارکیٹ کے دکانداروں کے مثبت نمونون سے عندیہ ملتا ہے کہ ہوانان سی فوڈ مارکیٹ کووڈ 19 کا ماخذ ہے۔

دوسری تحقیق کی مختصر تضاحت میں بتایا گیا کہ وباؤں کے حالات کو سمجھنا ان کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔

دونوں تحقیقی رپورٹس مین متعدد ذرائع سے حاصل ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ کورونا وائرس ممکنہ طور پر اس وائلڈ لائف مارکیٹ کے کسی زندہ جانور میں 2019 کے آخر میں تھا اور یہ کم از کم 2 بار وہاں کام کرنے والے یا خریداری کرنے والے لوگوں میں منتقل ہوا۔

ایک تحقیق میں ایسے شواہد پیش کیے گئے کہ دسمبر 2019 میں فروخت ہونے والے زندہ ممالیہ جانوروں میں ممکنہ کورونا وائرس موجود تھا۔

چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کی ایک الگ تحقیق میں جنوری 2020 میں وائلڈ لائٖف مارکیٹ میں اکٹھے کیے گئے جینیاتی سراغوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اس وائلڈ لائف مارکیٹ میں ہی سب سے پہلے کووڈ کے کیسز سامنے آئے تھے اور اس کے پھیلاؤ کے 2 ماخذ تھے۔

ڈاکٹر مائیکل نے بتایا کہ وہ چین کی اس تحقیق سے آگاہ نہیں تھے مگر اس کے نتائج ان کی تحقیق سے مطابقت رکھتے ہیں کہ یہ وائرس مارکیٹ میں 2 جگہوں سے پھیلا۔

ان کی ٹیم نے تحقیق کے دوران ووہان کے 156 کیسز کے طول بلد اور عرض بلڈ کا تخمینہ لگایا اور متعلوم ہوا کہ زیادہ تر کیسر وائلڈ لائف مارکیٹ سے تعلق رکھتے تھے۔

اس کے بعد انہوں نے جنوری اور فروری 2020 کے کیسز کا نقشہ تیار کیا اور اس مقصد کے لیے چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو سے سائنسدانوں کے ڈیٹا کو اکٹھا کیا۔

تحقیق کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ مارکیٹ ہی وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بنی، جہاں سے وہ پہلے ارگرد کے علاقوں تک پہنچا اور پھر شہر بھر میں پہنچ گیا۔

محققین نے بتایا کہ یہ بہت ٹھوس شماریاتی شواہد ہیں کہ ایسا کسی حادثے سے نہیں ہوا۔

چینی سائنسدانوں کے مطابق انہوں نے مارکیٹ کی سطح اور کچرے کے درجنوں نمونوں میں وائرس کو دریافت کیا مگر کسی بھی جانور میں سواب ٹیسٹ میں اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

دونوں تحقیقی رپورٹس ابھی تک کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی بلکہ ان کے نتائج آن لائن جاری کیے گئے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں