آریان خان کے منشیات کیس کے حوالے سے متضاد رپورٹس منظرعام پر

03 مارچ 2022
آریان خان —فائل فوٹو: فیس بک
آریان خان —فائل فوٹو: فیس بک

بولی وڈ اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کے گزشتہ برس منشیات رکھنے اور استعمال کرنے کی وجہ سے گرفتاری کے مقدمے کی تحقیقات کے حوالے سے متضاد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ آریان خان معاملے میں ملوث نہیں مگر اس کے ساتھ ہی حکومتی ادارے کی جانب سے اس تاثر کی واضح تردید بھی جاری ہوئی۔

مگر دونوں جانب سے کسی واضح بیان کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ ایک بار پھر گرم ہورہا ہے۔

یہ رپورٹس اس وقت سامنے آئیں جب آریان خان کے والد شاہ رخ خان نے کئی سال بعد پہلی فلمی دنیا میں واپسی کرتے ہوئے نئی فلم 'پٹھان' کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان کیا۔

اس حوالے سے پہلی رپورٹ ٹائمز آف انڈیا کی تھی جس میں کہا گیا کہ نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کو مبینہ طور پر ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے ثابت ہوتا ہو کہ آریان خان کسی منشیات اسمگل کرنے والے بین الاقوامی سینڈیکٹ سے کسی قسم کا تعلق رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ایک لگژری یاٹ میں مارے گئے چھاپے میں متعدد بے ضابطگیاں تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ ایسی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ آریان خان کے فون کو لیا جاتا اور ان کی چیٹس کو چیک کیا جاتا کیونکہ ان کے پاس کبھی بھی منشیات موجود نہیں تھی۔

دوسری جانب ایک اور رپورٹ میں این سی بی کے حوالے سے کہا گیا کہ آریان خان کے خلاف شواہد کی عدم دستیابی کی رپورٹس درست نہیں۔

رپورٹ کے مطابق این سی بی کے ڈپٹی جنرل منیجر سنجے سنگھ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کی تردید کی۔

خیال رہے کہ آریان خان کو انسداد منشیات فورس (نارکوٹکس فورس) نے رواں ماہ تین اکتوبر کو دیگر 8 ساتھیوں کے ہمراہ ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی کے ساحل سمندر پر کروز پارٹی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر الزام تھا کہ ان کے پاس منشیات تھی اور وہ کروز میں ساتھیوں کے ہمراہ ڈرگ پارٹی منانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

انہیں 27 دن بعد 30 اکتوبر کو ممبئی ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کیا تھا۔

زیادہ تر سیاستدانوں اور شوبز شخصیات نے آریان خان کی حمایت کرتے ہوئے نارکوٹکس فورس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انسداد منشیات فورس اپنی مشہوری کی خاطر معصوم بچے کی زندگی سے کھیل رہی ہے۔

آریان خان کی گرفتاری اور ان کے کیس سے متعلق چلنے والی عدالتی کارروائیاں بھارتی میڈیا میں شہ سرخیوں کے طور پر شائع ہوتی رہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں