بھارت: وزیراعلیٰ پنجاب کو موبائل فون ریپیئرنگ کرنے والے کے ہاتھوں شکست

11 مارچ 2022
رہنما اے اے پی اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو شکست دینے والے لبھ سنگھ اویوک موبائل فون مرمت کرنے والی ایک دکان پر کام کرتے ہیں—فوٹو:بشکریہ منٹ
رہنما اے اے پی اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو شکست دینے والے لبھ سنگھ اویوک موبائل فون مرمت کرنے والی ایک دکان پر کام کرتے ہیں—فوٹو:بشکریہ منٹ

بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی بھادور اور چمکور صاحب میں اسمبلی کی دونوں سیٹوں سے عام آدمی پارٹی کے امیدواروں سے انتخابی جنگ ہار گئے اور انہیں بھادور میں موبائل فون ریپیئر کرنے والے نوجوان سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق چرنجیت سنگھ چنی کو عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سیاسی حریف لبھ سنگھ اویوک نے بھادور سیٹ سے 37 ہزار 558 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔

انتخابات کے موصول ہونے ابتدائی رجحانات کے مطابق عام آدمی پارٹی ریاست میں بھاری مارجن سے انتخابی دنگل جیت رہی ہے، پنجاب کے ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قائد اروند کیجریوال کا کہنا تھا کہ آپ جانتے ہیں کہ چرنجیت سنگھ کو کس امیدوار نے شکست دی ہے؟ امیدوارلبھ سنگھ اویوک نے جو موبائل فون مرمت کرنے والی ایک دکان پر کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت: کیجریوال کو انتخابی مہم کے دوران ‘تھپڑ’

35 لبھ سنگھ اویوک نے 2013 میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) میں ایک رضاکار کے طور پر شمولیت اختیار کی تھی، اس کے والد ایک ڈرائیور ہیں، جب کہ اس کی ماں ایک سرکاری اسکول میں ایک سوئپر ہے۔

پنجاب میں پولنگ سے قبل ہی انہوں نے یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ چرنجیت سنگھ چنی کو اسمبلی حلقے شسکت دیکر دھول چٹائیں گے۔

سالہ لبھ سنگھ اویوک نے چرنجیت سنگھ چنی کے غریبی کے پس منظر پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ چیف منسٹر نے عام آدمی کا ماسک پہن رکھا ہے۔

لبھ سنگھ اویوک کا کہنا تھا کہ چرنجیت سنگھ چنی کے اس نشست سے انتخابی دنگل میں اترنے کے بعد میں نے صرف اتنا ہی فرق دیکھا کہ قومی میڈیا کی توجہ وزیر اعلیٰ کا مقابلہ کی وجہ سے میری جانب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ نئی دہلی پر سیاہی سے 'حملہ'

انہون نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ چرنجیت سنگھ چنی بھادور کے لوگوں کے مسائل سے واقف نہیں جبکہ میں جانتاہوں کہ "میرے انتخابی حلقے میں 74 گاؤں ہیں اور میں سے ہر ایک گاؤں کے مسائل بھی جانتا ہوں۔

لبھ سنگھ اویوک کا کہنا تھا کہ میرے لیے، بھادور صرف ایک انتخابی 'حلقہ' نہیں ہے، یہ میرا خاندان ہے، وزیراعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کو بھادور کے 10 گاؤں کے نام تک نہیں معلوم کیونکہ ان کے لیے بھادور صرف ایک انتخابی حلقے کی حیثیت رکھتا ہے۔

1 انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حلقے کے ووٹروں کے مسائل کو حل کریں۔

چیف منسٹر کو "کچھ نہ کرنے" اور اپنے 111 روز کے دور میں صرف اعلانات کرنے پر طعنہ دیتے ہوئے، انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ چمکور صاحب کی طرح، چرنجیت سنگھ چنی بھادور سے بھی شکست سے دوچار ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ہندوستان: کیجریوال پولیس کی حراست میں

لبھ سنگھ اویوک نے فروری میں یقین سے کہا تھا کہ 10 مارچ کے بعد وزیراعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی اس شخص کو تلاش کرتے پھریں گے جس نے انہیں بھادور سیٹ سے انتخاب لڑنے کا مشورہ دیا تھا۔

لبھ سنگھ اویوک دعوٰی اب پورا ہو گیا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق، عام آدمی پارٹی نے 79 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور پنجاب اسمبلی کی 117 سیٹوں میں سے 13 سیٹوں پر شام تک موصو ہونے والے نتائج کے مطابق پر آگے ہے۔

عام آدمی پارٹی کی پنجاب میں جیتت ریاست میں پہلی جیت ہوگی اور 2017 کے انتخابات میں اس کی کارکردگی سے بہت زیادہ بہتری ہوگی جب وہ کانگریس کو پیچھے چھوڑے ہوئے ریاست میں دوسرے نمبر پر آئی تھی۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں