روس کی یوکرین کے مختلف شہروں پر بمباری، دارالحکومت کیف کی جانب پیش قدمی

اپ ڈیٹ 12 مارچ 2022
روس  حملوں کے آغاز سے اب تک تقریباً  25 لاکھ افراد ہجرت کرکے پڑوسی ممالک میں جاچکے ہیں— فوٹو: رائٹرز
روس حملوں کے آغاز سے اب تک تقریباً 25 لاکھ افراد ہجرت کرکے پڑوسی ممالک میں جاچکے ہیں— فوٹو: رائٹرز

روس کی یوکرین کے شمالی شہروں میں شدید بمباری اور جنگی کارروائیاں جاری ہیں اور دارالحکومت کیف پر بھی حملے کے لیے روسی افواج اکٹھی ہونا شروع ہو گئی ہیں اور ان کی پیش قدمی جاری ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق یوکرینی حکام نے جنوبی بندرگاہ کے شہر ماریوپول اور مشرقی شہر خار کیف میں سنگین انسانی حالات کی اطلاع دی ہے۔

ایک سیٹلائٹ امیجنگ کمپنی میکسار کے مطابق ایک روسی فوجی قافلہ کیف کے قریب پہنچ رہا ہے جس سے یوکرین کے دارالحکومت پر نئے حملوں کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

دوسری جانب روس کی یوکرین کے شمال مشرق سےدارالحکومت تک جنگی پیش رفت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، مسلسل بمباری اور فائرنگ کے سبب کچھ علاقوں میں شہری اپنے پیاروں کی میتوں کی تدفین سے بھی قاصر ہیں۔

مزید پڑھیں: روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے، امریکا کا انتباہ

روس کی جانب سے شام اور چیچنیا میں کی گئی ماضی کی کارروائیوں میں بھی یہی حکمت عملی اپنائی گئی تھی کہ مسلح مزاحمت کو مسلسل فضائی حملوں اور گولہ باری سے کچل دیا جائے۔

اس قسم کے حملوں نے جنوبی ساحلی شہر ماریوپول کا رابطہ ملک سے منقطع کر دیا ہے اور اگر جنگ جاری رہی تو کیف اور یوکرین کے دیگر حصوں کا بھی یہی انجام ہو سکتا ہے۔

علاوہ ازیں یوکرینی حکام نے روسی فورسز پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے جنوبی شہر میلیتوپول کے میئر کو اغوا کر لیا ہے، یہ شہر اب روسی فوج کے قبضے میں ہے۔

یوکرینی وزارت داخلہ کے مشیر کا کہنا ہے کہ میلتوپول کے کرائسز مرکز میں 10 سپاہی داخل ہوئے جنہوں نے میئر ایوان فیدروف کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

ایک ویڈیو پیغام میں یوکرینی صدر ویلادمیر زیلنسکی نے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک بہادر میئر قرار دیا جو ثابت قدمی سے یوکرین کا دفاع کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے یوکرین کے اہم شہر 'خرسون' کا کنٹرول حاصل کرلیا

دریں اثنا صدر جو بائیڈن نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے روس کو سب سے ’پسندیدہ قوم‘ کے درجہ سے ہٹانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد روسی حکومت کو یوکرین پر حملے کی سزا دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل سے حملہ آوروں کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے، یہ دہشت گردی کے ایک نئے مرحلے میں چلے گئے ہیں جس میں وہ یوکرین کے اصل مقامی نمائندوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔

دوسری جانب روسی حملوں سے اموات کی تعداد بتاتے ہوئے میروپول کے میئر آفس کا کہنا تھا کہ گزشتہ 12 ایام کے دوران اموات کی تعداد ایک ہزار 500 تک جا پہنچی ہے، مسلسل فائرنگ کے سبب میتوں کی تدفین میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ متعدد میتوں کی اب تک تدفین نہیں کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں روس کے پڑوسی ملک پر حملوں کے آغاز سے اب تک تقریباً 25 لاکھ افراد ہجرت کرکے پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں