کن ماؤں میں بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

14 مارچ 2022
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

پہلی بار ماں بننے والی یا جڑواں بچوں کو جنم دینے والی خواتین میں ڈپریشن کی علامات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کے لیے پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے جو ایک عام عارضہ ہے، صرف امریکا میں ہی ہر 8 میں سے ایک خاتون کو اس کا سامنا ہوتا ہے۔

امریکا کے یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ڈپریشن کی اس قسم سے ایک جینیاتی جزو جڑا ہے اور حمل کے دوران ہارمونز میں آنے والی تبدیلیوں سے بھی زیادہ خطرے سے دوچار خواتین میں ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی 10 لاکھ سے زیادہ نئی ماؤں میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے عناصر کی جانچ پڑتال کی گئی تھی اور کچھ کی شناخت کی۔

ان میں سے ایک عمر ہے اور تحقیق کے مطابق 25 سال سے کم عمر خواتین میں یہ مسئلہ سب سے زیادہ عام ہوتا ہے جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ شرح گھٹ جاتی ہے۔

ایسی جوان ماؤں میں سے 10 فیصد نے بچے کی پیدائش کے 3 ماہ کے اندر ڈپریشن کی علامات کو رپورٹ کیا جبکہ 29 سال کی خواتین میں یہ شرح 8.5 فیصد جبکہ زیادہ عمر کی خواتین میں 6 سے 7 فیصد رہی۔

محققین نے بتایا کہ ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں عمر اور پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے درمیان ملا جلا تعلق دریافت کیا گیا تھا اور کچھ میں عندیہ دیا گیا کہ کم عمر اور زیادہ عمر والی خواتین میں یہ دریافت کیا گیا تھا۔

مگر اس نئی تحقیق کے نتائج مختلف ہیں اور عمر کی تیسری یا چوتھی دہائی میں ماں بننے والی خواتین میں ڈپریشن کی شرح کم ہوتی ہے ماسوائے جڑواں بچوں کی پیدائش کے۔

مجموعی طور پر جڑواں بچوں کو جنم دینے والی خواتین کی جانب سے ڈپریشن کی علامات کو زیادہ رپورٹ کیا جاتا ہے مگر اس معاملے میں بھی عمر اہمیت رکھتی ہے۔

40 سال یا اس سے زائد عمر کی 15 فیصد خواتین ان علامات کو رپورٹ کرتی ہیں جبکہ 30 سے زائد عمر کی خواتین میں یہ شرح 10 فیصد سے کم تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں