حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ سے برطرفی کیلئے پی ٹی آئی کا عدالت سے رجوع کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 21 مئ 2022
رپورٹ کے مطابق رن آف الیکشن ہونے کی صورت میں 5 خالی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ اہم کردار ادا کرے گی—فوٹو : سلمان خان
رپورٹ کے مطابق رن آف الیکشن ہونے کی صورت میں 5 خالی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ اہم کردار ادا کرے گی—فوٹو : سلمان خان

وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے وزرات اعلیٰ کے لیے اپنی حمایت میں ووٹ دینے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 25 منحرف ارکان اسمبلی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) پر مشتمل اپوزیشن اتحاد آنے والے روز میں اس دعوے کے ساتھ ضمنی انتخاب کی پیش گوئی کررہے ہیں کہ حمزہ شہباز غیر قانونی طور پر زیادہ عرصے تک عہدے پر براجمان نہیں رہ سکتے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخاب ہونے کی صورت میں 5 خالی مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ اہم کردار ادا کرے گی، ڈی سیٹ ہونے والے پی ٹی آئی کے 25 ارکان صوبائی اسمبلی میں سے 5 مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئے۔

قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن اب ان نشستوں کو پنجاب اسمبلی میں ہر پارٹی کی موجودہ تعداد کے مطابق تقسیم کرے گا، یعنی اگر پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ حصہ ملتا ہے تو وہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

حمزہ شہباز نے بظاہر معزول وزیراعظم عمران خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 'آخری گیند تک کھیلنے' کا فیصلہ کیا ہے تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ عدالت عظمیٰ اور ای سی پی کے فیصلوں کے مطابق قانونی طریقے سے وزیراعلیٰ پنجاب کو گھر بھیجے گی۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کردیا

مسلم لیگ (ق) کے سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی نے کہا کہ 25 لوٹوں کو ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد جعلی وزیراعلیٰ کا کھیل ختم ہوگیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایوان میں اکثریت کھونے کے بعد حمزہ شہباز کے پاس عہدے سے چمٹے رہنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے ای سی پی کے فیصلے کو اپنی فتح قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کا امیدوار ہوں اور بطور وزیراعلیٰ حلف اٹھانے کے بعد اگر وہ مجھ سے کہیں گے تو میں اسمبلیاں تحلیل کر دوں گا۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آج پنجاب میں امپورٹڈ حکومت عملاً ختم ہو گئی ہے، نام نہاد وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کو کچھ شرم آنی چاہیے اور فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ حمزہ شہباز استعفیٰ نہیں دینے والے اور ان کی پنجاب اسمبلی میں اکثریت ہے، مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ای سی پی کے فیصلے کا حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کی نااہلی ریفرنس کا فیصلہ مؤخر

انہوں نے کہا کہ گورنر، وزیراعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہہ سکتا ہے یا اپوزیشن وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا سکتی ہے، دونوں آپشنز قابل عمل نظر نہیں آتے کیونکہ گورنر کا عہدہ خالی ہے اور اپوزیشن کو وزیراعلیٰ کو ہٹانے کے لیے 186 ووٹوں کی ضرورت ہے جو اس کے پاس نہیں ہیں جبکہ اسی طرح قائم مقام گورنر بھی وزیر اعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے نہیں کہہ سکتے۔

عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اسمبلی میں 177 ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کو مجموعی طور پر 168 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو 5 میں سے 3 مخصوص نشستیں ملیں گی، جس سے ان کے پاس تعداد 180 ہو جائے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) پر مشتمل اتحاد کا خیال ہے کہ ای سی پی کے فیصلے کے بعد انہوں نے جو 5 مخصوص نشستیں کھو دی ہیں وہی انہیں واپس مل جائیں گی، اس طرح دوبارہ الیکشن میں وہ اپنے مشترکہ امیدوار (پرویز الٰہی) کو وزیراعلیٰ کے طور پر منتخب کرانے کے لیے بہتر پوزیشن میں آجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی منحرف اراکین نااہلی کیس، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا

جہانگیر ترین، علیم خان اور اسد کھوکھر گروپ سے تعلق رکھنے والے ڈی سیٹ ہونے والے ارکان صوبائی اسمبلی ای سی پی کے فیصلے پر مایوس ہیں اور ان میں سے بیشتر عدالت جانے پر غور کر رہے ہیں تاہم ان میں سے دیگر مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ضمنی الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔

سینئر وکیل خرم چغتائی نے بتایا کہ 5 مخصوص نشستیں پارٹیوں میں ان کی موجودہ طاقت کی بنیاد پر تقسیم کی جائیں گی تاہم منحرف ارکان سے متعلق عدالت عظمیٰ اور ای سی پی کے فیصلوں کے بعد حمزہ شہباز کے اقتدار کی قسمت درمیان میں لٹک رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع نے بتایا ’مسلم لیگ (ن) کے وہ 5 منحرف ارکان اسمبلی جنہوں نے 16 اپریل کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ نہیں دیا تھا، وہ پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ ایک حکمت عملی طے کرنے کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں‘۔

پنجاب اسمبلی کے موجودہ ارکان کی تعداد 346 ہے، پی ٹی آئی کے پاس 158 ارکان اسمبلی ہیں، اس کی اتحادی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے 10، مسلم لیگ (ن) کے 165، پیپلز پارٹی کے 7، آزاد 5 اور ایک کا تعلق راہ حق پارٹی سے ہے۔

ضرور پڑھیں

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

ورلڈ کپ 1992ء کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں ہار سہنے کے بعد تو حوصلے ایسے ٹوٹے کہ دوبارہ فائنل تک پہنچنے میں 27 سال لگ گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں