آسٹریلیا میں ایک دہائی تک حکومت کرنے والی کنزرویٹو پارٹی کو اپوزیشن سے شکست

اپ ڈیٹ 22 مئ 2022
انتھونی البانیز  نے  اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آسٹریلیا کے لوگوں کو متحد و یکجا کرنا چاہتے ہیں—فوٹو:اے ایف پی
انتھونی البانیز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آسٹریلیا کے لوگوں کو متحد و یکجا کرنا چاہتے ہیں—فوٹو:اے ایف پی

آسٹریلیا کے عام انتخابات میں اپوزیشن جماعت آسٹریلین لیبر پارٹی نے ایک دہائی تک ملک پر حکومت کرنے والی کنزرویٹو پارٹی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی اور وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے انتھونی البانیز کو مبارک باد دے دی۔

غٖیر ملکی خبر ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق لیبر پارٹی کے رہنما انتھونی البانیز نے 9 سال سے زائد عرصے تک اپوزیشن میں رہنے کے بعد اپنی پارٹی کو انتخابات میں فتح پر اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آسٹریلیا کے عوام کو متحد و یکجا کرنا چاہتے ہیں۔

انتخابی فتح کے خوشی میں رات گئے سڈنی میں جاری لیبر پارٹی کی تقریب میں شرکت کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوتے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انتھونی البانیز کا کہنا تھا کہ میں ملک کو متحد کرنا چاہتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی پر بیان، مسلمان رہنماؤں کا آسٹریلوی وزیراعظم سے ملاقات کا بائیکاٹ

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ لوگ متحد ہونا چاہتے ہیں، وہ ہمارے مشترکہ مفادات کے مواقع اور مقاصد چاہتے ہیں اور اس کا شعور رکھتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں میں بہت تقسیم ہو چکی، لوگ اب ایک قوم بن کر ایک ہونا چاہتے ہیں اور میں اس سلسلے میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔

دوسری جانب، قدامت پسند وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے بھی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے فتح پر انتھونی البانیز کو مبارک باد دی۔

وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے انتھونی البانیز کو فون کر کے انتخابات میں شکست تسلیم کی اور انہیں ان کی جیت پر مبارک باد دی۔

اسکاٹ موریسن نے تسلیم کیا کہ یہ دن ان کی لبرل پارٹی کے لیے مشکل اور شکست کا دن ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا کی لیبر پارٹی گزشتہ دہائی سے آسٹریلیا میں حکومت کر رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ہتک عزت قانون تنازع: آسٹریلوی وزیراعظم کی سوشل میڈیا پر تنقید

اسکاٹ موریسن نے سڈنی میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں نے اپوزیشن لیڈر اور آنے والے وزیر اعظم انتھونی البانیز سے بات کی اور انہیں انتخابی فتح پر مبارک باد دی ہے۔

انتخابی نتائج اور تقریباً نصف ووٹوں کی گنتی کے ساتھ انتھونی البانیز کی پارٹی پارلیمان میں سب سے بڑی پارٹی بن چکی ہے لیکن اسے ابھی تک واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اب تک کے نتائج میں موسمیات سے متعلق پالیسیوں پر بہت زیادہ زور دینے اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آواز اٹھانے والے آزاد امیدواروں کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوگئی ہے، انہیں آزاد امید واروں نے وزیراعظم اسکاٹ موریسن کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو ان کے مضبوط قدامت پسند شہری حلقوں میں شکست دی۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں آن لائن ٹرولز کو بے نقاب کرنے کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

انتھونی البانیز کو ملک میں وبائی مرض کووڈ-19، موسمیاتی تبدیلی کے باعث جھاڑیوں میں لگنے والی آگ، خشک سالی اور سیلاب سے لاکھوں آسٹریلوی شہریوں کے متاثر ہونے کے 3 برس کے بعد شان دار کامیابی ملی ہے۔

انتخابات میں کامیاب ہونے والے رہنما ایڈم بینڈٹ کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا بحران ہے جس پر وہ اقدامات چاہتے ہیں۔

ہفتے کے شروع میں انتھونی البانیز نے ووٹرز سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کی پارٹی کو ملک چلانے کا موقع دیں، انہوں نے لوگوں پر زور دیا تھا کہ وہ تقسیم کرنے والے وزیر اعظم کو مسترد کریں۔

لیبر پارٹی کے رہنما نے کہا تھا کہ ملک کو ایک ایسے وزیراعظم کی ضرورت ہے جو بہت زیادہ اچھے کردار والا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کے وزیراعظم کو خاتون نے انڈا دے مارا

ایڈیلیڈ میں انتخابات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انتھونی البانیز نے سڈنی کی سرکاری کالونی میں رہنے والی ماں کے بیٹے کی حیثیت سے سیاست شروع کی اور ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کی اپنی زندگی کے سفر کی روداد بھی سنائی۔

اپنی تقریر کے دوران جذباتی لہجے میں بات کرتے ہوئے انتھونی البانیز کا کہنا تھا کہ میری کہانی اس ملک کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے، میری طرح کا پس منظر رکھنے والا ایک شخص کل اس ملک کا وزیر اعظم منتخب ہونے کی امید کے ساتھ آج آپ کے سامنے کھڑا ہے۔

آسٹریلیا کے الیکشن کمیشن کے مطابق 70 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے قبل از وقت یا پوسٹل بیلٹ کے ذریعے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

ضرور پڑھیں

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

ورلڈ کپ 1992ء کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں ہار سہنے کے بعد تو حوصلے ایسے ٹوٹے کہ دوبارہ فائنل تک پہنچنے میں 27 سال لگ گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں