20 سال قید کی سزا مکمل، جاپانی ریڈ آرمی کی بانی کو رہا کردیا گیا

اپ ڈیٹ 29 مئ 2022
فوساکو شیجینوبو کو 2000 میں جاپان میں گرفتار کیا گیا تھا — فوٹو: ڈان اخبار
فوساکو شیجینوبو کو 2000 میں جاپان میں گرفتار کیا گیا تھا — فوٹو: ڈان اخبار

ایک دور میں خوف کی علامت سمجھے جانے والی جاپانی ریڈ آرمی کی بانی 76 سالہ فوساکو شیجینوبو کو 20 سال کی سزا مکمل ہونے پر رہا کردیا گیا۔

انہیں 1974 میں سفارت خانے پر دھاوے پر سزا دی گئی تھی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فوساکو شیگین نوبو 1970 سے 1980 کے دوران دنیا کی مشہور خاتون تھیں، اس وقت ان کے بائیں بازوں کے گروپ نے فلسطین کی حمایت میں دنیا بھر میں حملے کیے تھے۔

ریڈ آرمی کی بانی ٹوکیو کی جیل سے رہائی کے بعد اپنی بیٹی کے ہمراہ سیاہ رنگ کی کار میں روانہ ہوئیں، اس وقت ان کے سیکڑوں حامی یہاں موجود تھے اور انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں ’ہمیں فوساکو سے پیار ہے‘ جیسے پیغام درج تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنی گرفتاری کے دوران لاکھوں افراد کی موجودگی کے سبب پیش آنے والی مشکلات پر معافی مانگتی ہوں‘۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا تنازعہ: جاپانی فوج کو الرٹ رہنے حکم

رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نصف صدی قبل ہم نے اپنی جنگی ترجیحات میں معصوم لوگوں کو نقصان پہنچایا، یہ لوگ ہمارے لیے اجنبی تھے لیکن ہم نے انہیں یرغمال بنایا۔

سویا ساس کمپنی کی سابقہ ملازم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 1972 میں تل ابیب کے لاد ایئرپورٹ پر مشین گن اور گرینیڈ سے حملے کی ماسٹر مائنڈ تھیں، واقعے میں 26 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 80 زخمی ہوئے تھے۔

فوساکو شیجینوبو کو ہالینڈ میں واقع فرانسیسی سفارتخانے پر حملے میں حصہ لینے کے چھ سال بعد یعنی 2000 میں جاپان میں گرفتار کیا گیا تھا اور دو دہائیوں کے لیے قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جاپان آنے سے قبل وہ 30 سال تک مشرقِ وسطیٰ میں ایک مفرور ملزمہ کی طرح مقیم رہیں۔

مزید پڑھیں: جاپان میں دو امریکی فوجی گرفتار

ان کی بیٹی مے، جو 1973 میں عسکریت پسند پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (پی ایف ایل پی) سے تعلق رکھنے والے والد کے ہاں پیدا ہوئی تھیں، نے اپنی والدہ کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔

فوساکو شیجینوبو نے فرانسیسی سفارتخانے پر حملے میں ملوث نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا، اس حملے میں ریڈ آرمی کے تین عسکریت پسندوں نے فرانسیسی سفارت خانے میں داخل ہو کر سفیر اور عملے کے دیگر 10 افراد کو 100 گھنٹے تک یرغمال بنا رکھا تھا۔

واقعے میں گولی لگنے سے 2 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو ئے تھے۔

فرانس نے جیل میں قید ریڈ آرمی کے گوریلا کو رہا کر کے تعطل کا خاتمہ کیا تھا، جو یرغمال بنانے والوں کے ساتھ ہوائی جہاز میں شام کے لیے روانہ ہوا تھا۔

انہوں نے ذاتی طور پر حملے میں حصہ نہیں لیا تھا تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ وہ پی ایف ایل پی سے رابطے میں تھیں۔

فوساکو شیجینوبو دوسری عالمی جنگ میں لڑنے والے میجر کی صاحبزادی ہیں جو جاپان کو شکست کے بعد ایک دکاندار بن گئے تھے، انتہا پسندی میں ان کا سفر 20 سال کی عمر میں شروع ہوا جب انہوں نے ٹوکیو یونیورسٹی میں احتجاجی دھرنا دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جاپان :امریکی فوجی اڈے کی منتقلی پر ہزاروں افراد کا احتجاج

1960 اور 1970 میں جاپان، ویتنام جنگ کے لیے احتجاج کا مرکز تھا، اس دوران وہ جلد جاپان چھوڑتے ہوئے بائیں بازو کی تحریک میں شامل ہوگئی تھیں، اس وقت فوساکو شیجینوبو کی عمر 25 سال تھی۔

انہوں نے اپریل 2001 میں ریڈ آرمی کی تحلیل کا اعلان کیا تھا جبکہ 2008 میں ان میں آنتوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

رہائی کے وقت فوساکو شیجینوبو کا کہنا تھا کہ وہ پہلے اپنے علاج پر توجہ دیں گی۔

انہوں نے وضاحت دی کہ وہ اپنی خراب طبیعت کے سبب ’معاشرے کی سرگرمیوں میں حصہ‘ نہیں لے سکیں گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’میں (اپنے ماضی پر) سوچنا جاری رکھنا چاہتی ہوں اور تجسس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ جینا چاہتی ہوں‘۔

تبصرے (0) بند ہیں