قومی اسمبلی نے اپوزیشن اور کسی بحث کے بغیر 11 بل منظور کر لیے

اپ ڈیٹ 09 جون 2022
قومی اسمبلی نے بغیر کسی بحث کے 11 بل منظور کر لیے — فائل فوٹو: ٹویٹر
قومی اسمبلی نے بغیر کسی بحث کے 11 بل منظور کر لیے — فائل فوٹو: ٹویٹر

قومی اسمبلی کے قانون سازوں نے بغیر کسی بحث اور نجی اراکین کے دن کا کورم مکمل نہ ہونے کے باوجود غیر سنجیدہ ماحول میں 11 بل منظور کر لیے حالانکہ اس میں سے اکثر بل انتہائی سنجیدہ معاملات پر ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 11 بل میں سے 8 بل ایسے تھے جن کو ایوان زیریں نے قواعد کو منسوخ اور متعلقہ کمیٹیوں کے بھیجے بغیر منظور کیا تھا۔

تین گھنٹے سے زائد طویل اجلاس کی صدارت کرنے والے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی نے بلوں کو صوتی ووٹوں کے ذریعے 'متعارف' اور 'منظور' قرار دیتے رہے کیونکہ قومی اسمبلی میں موجود قانون ساز یہ جانے بغیر ’ہاں‘ کہتے رہے کہ ان کے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ’غیر فعال‘ قومی اسمبلی کا پہلا باقاعدہ اجلاس کل ہوگا

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت کی طرف سے کی جانے والی ایسی جلد بازی شاید جمعہ کو وفاقی بجٹ المعروف فنانس بل کی منصوبہ بندی کے لیے کی گئی اور جلدی میں تمام بل متعارف کروا کر منظور کیے گئے کیونکہ بجٹ پر عام بحث کے دوران ایوان کوئی اور قانون سازی نہیں کر سکتا۔

منظور کیے گئے بلوں کو متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے نہ کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ 11 اپریل کو شہباز شریف کے بطور وزیر اعظم انتخاب کے بعد سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان کے مشترکہ استعفوں کے سبب قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیاں اس وقت نامکمل ہیں۔

جب قومی اسمبلی میں جب حکومتی بنچوں پر تمام اگلی قطاریں خالی تھیں اور ’فرینڈلی اپوزیشن‘ میں سے کسے نے بھی اس صورتحال پر آواز بلند نہیں کی تو ایوان نے قانون سازی کرنے کا ایجنڈا اٹھایا اور حکومت سپلیمنٹری ایجنڈا لا کر دو بل منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی۔

11 بلوں کی منظوری کے علاوہ قومی اسمبلی میں چار بل بھی پیش کیے گئے جنہیں متعلقہ کمیٹیوں میں بھجوایا گیا اور مسلم لیگ (ن) کی شکیلہ لقمان کی جانب سے اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے ڈرگ ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کے بل کو مسترد کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی: صدر مملکت کے خلاف قرارداد منظور، غیر جانبدار کردار ادا کرنے کا مطالبہ

مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی کے بل کو قانون سازوں نے 50-6 ووٹوں کے واضح فرق سے مسترد کر دیا۔

اس کے علاوہ ایم این اے شازہ فاطمہ خواجہ کی طرف سے پیش کیے جانے والے بل پر کوڈ آف کرمنل پروسیجر (ترمیمی) ایکٹ 2022 کو بھی قانون سازوں نے متفقہ طور پر منظور کیا، جس نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے حکام کو ان کے عدالتی اختیارات سے محروم کردیا ہے۔

اس بل کے مطابق صدر کی منظوری کے بعد اب ان (اسلام آباد ضلعی انتظامیہ) کے پاس یہ اختیار نہیں رہے گا کہ وہ کسی کو ریمانڈ یا جیل بھیج سکیں، واضح رہے کہ اس بل کو سینیٹ پہلے ہی منظور کر چکا ہے۔

ایک اور اہم بل فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2020 تھا جو جماعت اسلامی (جے آئی) کے مولانا عبدالاکبر چترالی کی طرف سے پیش کیا گیا تھا جس میں سوشل میڈیا پر فحاشی پھیلانے کی سزا میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اپنے اتحاد کے چار اراکین کو اسمبلی میں حقیقی اپوزیشن سمجھنے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے غوث بخش مہر نے پاک چائنا گوادر یونیورسٹی لاہور بل 2022 کے نام سے ایک متنازع پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا جس کو وزیر مملکت برائے قانون و انصاف شہادت اعوان کی مخالفت کے باوجود ڈپٹی اسپیکر نے قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں کورم پورا نہ ہونے کے سبب صدر کے خلاف مذمتی قرارداد پیش نہ ہوسکی

جی ڈی اے کے رکن قومی اسمبلی کی طرف سے پیش کیے جانے والے بل پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر مملکت نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ تعلیم پہلے سے ہی ایک متنازع موضوع ہے، اس بل کے تحت مجوزہ یونیورسٹی کو نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک کسی بھی شہر میں اپنے کیمپس کھولنے کی اجازت ہوگی۔

تاہم ڈپٹی اسپیکر نے وزیر مملکت کے دعوے کو نظر انداز کیا اور یہ کہتے ہوئے بل کو قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا کہ وہاں ہر معاملے پر بات ہو سکتی ہے۔

حکومت نے انتخابات (ترمیمی) بل 2022 اور قومی احتساب (ترمیمی) بل 2022 پر غور کرنے کے لیے جمعرات کی شام پہلے ہی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے، ان ترمیمی بلز کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا تھا لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے دوبارہ غور کے لیے ان کو واپسی بھیج دیا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں