جزلان قتل کیس : عدالت کا واردات میں استعمال پستول کی فرانزک رپورٹ پیش کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 25 جون 2022
ملزمان کی فائرنگ سے جزلان فیصل جاں بحق جبکہ اس کا دوست زخمی ہوا تھا—فائل فوٹو:ڈان
ملزمان کی فائرنگ سے جزلان فیصل جاں بحق جبکہ اس کا دوست زخمی ہوا تھا—فائل فوٹو:ڈان

کراچی کی سیشن کورٹ نے بحریہ ٹاؤن میں نوجوان طالب علم جزلان فیصل کے قتل میں استعمال ہونے والے لائسنس یافتہ اسلحے کی فرانزک رپورٹ طلب کرلی ہے جسے غیرقانونی استعمال کیا گیا تھا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر فراز احمد چانڈیو بلوچ نے تفتیشی افسر اسلم جٹ کو 6 جولائی کو رپورٹ پیش کرنے کے احکامات دیے۔

عدالت کی جانب سے محمد فیض اور ان کے صاحبزادے سید محمد عرفان اور محمد احسن کی جانب سے مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری اور ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے دی گئی درخواست کے بعد یہ ہدایات دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جزلان قتل کیس: اہلخانہ نے تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کردیا

پچھلے ہفتے پولیس نے مبینہ مرکزی ملزم حسنین فیض، ان کے والد محمد فیض، بھائی عرفان اور احسن کے ساتھ ان کے دوست انشال پر جزلان فیصل کو فائرنگ کر کے قتل کرنے اور سہولت کاری کے الزمات کے تحت چارج شیٹ پیش کی تھی۔

پولیس نے بتایا تھا کہ جزلان نے حسنین کو لاپرواہی سے بائیک چلانے سے روکا جس کے بعد حسنین، اس کے بھائیوں اور دوست نے جزلان کا تعاقب کیا اور بحریہ ٹاؤن کراچی میں 'فیل ٹاور' کے قریب قتل کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں: عدالت نے جزلان قتل کیس میں نامزد ملزم کو بچہ جیل بھیج دیا

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان نے اپنے والد محمد فیض کا لائسنس یافتہ 9 ایم ایم پستول استعمال کیا تھا، جن پر بعدازاں اپنے بچوں کو ہتھیار کے غیر قانونی استعمال پر سہولت کاری فراہم کرنے کے جرم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں