طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب کی تباہ کاریاں، مزید 27 شہری لقمہ اجل بن گئے

اپ ڈیٹ 02 اگست 2022
<p>وزیر اعظم  نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو خوراک کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کیا—فوٹو:ٹوئٹر</p>

وزیر اعظم نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو خوراک کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کیا—فوٹو:ٹوئٹر

ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی موسلادھار بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں مزید 27 افراد جان کی بازی ہار گئے، وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے سب ڈویژن ہجیرہ کے گاؤں تہی کھکھریالی میں اتوار کی رات ہونے والی تیز بارش کے باعث کچے مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔

آزاد جموں و کشمیر ضلع پونچھ کے ڈویژنل کمشنر انصار یعقوب نے سوگوار خاندان کو خیموں، کمبلوں اور کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ 40 لاکھ روپے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: وزیراعظم کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ، متاثرین کو فوری معاوضہ فراہم کرنے کا حکم

اس کے علاوہ ایک اور حادثے میں ضلع جہلم کے علاقے گجر بانڈی میں ایک شخص نالہ عبور کرتے ہوئے پانی کے تیز بہاؤ کی زد میں آنے کے بعد ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

گلگت بلتستان

گلگت میں طوفانی بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی، سڑکوں، فصلوں، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا، جب کہ اسی دوران مزید ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

بارش کے باعث سڑکیں بند ہونے سے دور دراز علاقوں کے مقامی لوگوں کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہے جب کہ کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام بھی معطل ہے۔

پولیس نے بتایا کہ ہفتے روز ہنزہ کے علاقے نصیر آباد میں شدید بارش کے بعد مکان کی چھت گرنے سے ایک لڑکا جاں بحق اور اس کی ماں شدید زخمی ہوگئی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ، متاثرین کیلئے امداد کا اعلان

اسکردو کے ڈپٹی کمشنر کریم داد چغتائی کے مطابق جگلوٹ اسکردو روڈ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مختلف مقامات پر بند ہونے سے سیکڑوں سیاح پھنس گئے ہیں۔

نگر کے علاقے سکندرآباد میں آنے والے سیلاب نے قراقرم ہائی وے، سرکاری عمارتوں، کئی دکانوں، فصل کی کاشت کے لیے تیار زمینوں اور آبپاشی کے راستوں کو نقصان پہنچایا جب کہ دہیمل، گوپس اور غذر کے دیگر علاقوں میں بھی سیلاب نے سڑکوں، فصلوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا۔

دیامر کے علاقے دیرال اور تانگیر، استور، گھانچے، شگر، اسکردو کے کئی دیگر علاقوں میں بھی بارشوں سے اسی طرح کے نقصانات ہوئے۔

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں نے زمینوں، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا، چھتیں گرنے اور ڈوبنے کے حادثات میں 7 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان، خیبر پختونخوا میں سیلاب سے تباہی، مزید 19 افراد جاں بحق

ریسکیو 1122 کے مطابق سیلاب نے مانسہرہ، مردان، صوابی، چارسدہ، شانگلہ اور دیگر اضلاع کو بری طرح متاثر کیا جہاں پہاڑی ندی نالوں سے آنے والے سیلابی ریلوں نے رہائشی علاقوں کو ڈبو دیا۔

اپر کوہستان کے ڈپٹی کمشنر محمد آصف نے صحافیوں کو بتایا کہ قراقرم ہائی وے پر تعمیر مرکزی پل بہہ جانے کے باعث گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان ٹریفک معطل ہو گئی ہے

بلوچستان

دوسری جانب، بلوچستان میں بارشوں سے متعلقہ حادثات میں مزید 9 افراد جان کی بازی ہار گئے، وزیراعظم شہباز شریف نے مقامی اور عالمی اداروں سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کی اپیل کی۔

ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے خوشنوب میں قائم ٹینٹ سٹی کے دورے کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو 24 گھنٹوں کے اندر تمام متاثرین کو امدادی رقم ادا کرنے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں سیلاب، ڈوبتے بچوں کی تصاویر نے دل دہلادیے

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت آخری تباہ مکان کی بحالی تک نہیں بیٹھے گی، انہوں نے خیموں میں مقیم بے گھر خاندانوں کو مناسب خوراک اور پینے کے پانی کی عدم فراہمی پر ضلعی انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے غفلت کے ذمہ دارحکام کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے وزیراعظم کو بریفنگ دی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے ٹینٹ سٹی میں خوراک اور امدادی سامان نہ ملنے والے سیلاب متاثرین کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ کو معطل کردیا۔

بعد ازاں، امدادی چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ مختلف علاقے سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں، تقریباً 136 شہری جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ بڑی تعداد میں مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

ادھر، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے حکام کے مطابق ضلع ژوب میں بڑی تعداد میں مکانات تباہ ہوئے ہیں جب کہ ضلع آواران اور کوہلو کا صوبے کے دیگر اضلاع سے رابطہ منقطع ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں