شہباز گل 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اپ ڈیٹ 10 اگست 2022
<p>شہباز گل کو اسلام آباد کچہری میں پیش کیا گیا تھا— فوٹو: ڈان نیوز</p>

شہباز گل کو اسلام آباد کچہری میں پیش کیا گیا تھا— فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے چیف آف اسٹاف اور پارٹی رہنما ڈاکٹر شہباز گل کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

شہباز گل کو اسلام آباد کچہری میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما کو اسلام آباد پولیس نے بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز گِل کو بغاوت، عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا، رانا ثنااللہ

پی ٹی آئی کے گرفتار رہنما کو آج اسلام آباد کے تھانہ کوہسار پولیس کی جانب سے مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

ڈاکٹر شہباز گل کو جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ان کے وکیل فیصل چوہدری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔

ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو موصول عدالتی حکم کے مطابق تفتیشی افسر نے جرم میں مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کے حوالے سے مزید تفتیش کے لیے شہباز گِل کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

حکم میں کہا گیا ہے کہ شہباز گل کا ریمانڈ فرانزک کے ذریعے وائس میچنگ کے لیے مبینہ طور پر جرم میں استعمال ہونے والے موبائل فون کو برآمد کرنے اور ملزم کے اس انٹرویو کی تصدیق کے لیے بھی طلب کیا گیا تھا جو اس نے کراچی میں واقع میڈیا ہیڈ آفس کو دیا تھا۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم کا ریمانڈ میڈیا ہاؤس سے ویڈیو کی تصدیق کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کا جسمانی ریمانڈ طلب کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے جبکہ وہ پہلے ہی تقریباً 24 گھنٹے سے پولیس کی تحویل میں ہیں۔

شہباز گل کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان کے مؤکل پر تشدد کیا گیا ہے اور ان کے طبی معائنے کی درخواست کی۔

مزید پڑھیں: شہباز گل کو اسلام آباد کے بنی گالا چوک سے ’اغوا‘ کیا گیا، پی ٹی آئی رہنماؤں کا دعویٰ

عدالت کی جانب سے فیصلے میں 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملزم کو 12 اگست کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ پروگرام کسی کے کہنے پر نہیں ہوا۔

شہباز گل کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیشی کے وقت اسلام آباد پولیس نے کمرہ عدالت میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کسی کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، رانا ثنااللہ

اسلام آباد پولیس کے اہلکار کا کہنا تھا کہ جج کا حکم ہے کہ صحافیوں کو اندر آنے نہ دیں۔

قبل ازیں اسلام آباد کچہری میں پیشی کے موقع پر صحافی کے اس سوال پر کہ اداروں کے خلاف جو آپ نے باتیں کیں کیا وہ پارٹی پالیسی تھی، شہباز گل کا کہنا تھا ادارے ہماری جان ہیں، کبھی ان کے خلاف بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے متنازع بیان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے شرمندگی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ محب وطن ہیں، کسی کو اکسانے کی کوشش نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی میں جو افسران غلط کام کرنے کا کہہ رہے ہیں، میں نے ان سے متعلق بات کی تھی۔

شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ شہباز گل کے کپڑوں پر خون کے دھبے لگے ہیں، پتا نہیں کس مقام سے شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بنی گالا پولیس اسٹیشن میں شہباز گل کے اغوا کی درخواست دی ہے، ہم نے عدالت سے استدعا کی کہ آپ انہیں جوڈیشل کردیں، ہم قانون کے مطابق درخواست دیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گِل کو اسلام آباد پولیس نے قانون کے مطابق بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پنجاب پولیس کو بنی گالا کی سیکیورٹی سنبھالنے کیلئے بھیج رہے ہیں، پی ٹی آئی رہنما

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل کو اسلام آباد پولیس نے قانون کے مطابق بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ شہباز گل کے خلاف باقاعدہ ایک مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا ہے اور صبح عدالت میں مقدمے کے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ممنوعہ فنڈنگ اور توشہ خانہ ریفرنس آنے کے بعد ایک بیانیہ بنایا جس کی ذمہ داری ایک نجی ٹی وی چینل سمیت پاکستان تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری اور ڈاکٹر شہباز گل کو دی گئی۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ عمران خان کی زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں سازشی بیانیہ بنایا گیا اور اس کی ذمہ داری شہباز گِل اور فواد چوہدری کو سونپی گئی جس کے بعد ایک نجی ٹی وی چینل پر فون کال پر بات کرکے پورا بیانیہ پڑھ کر سنایا گیا جس میں ایسے جملے بھی شامل تھے جن کا نشر ہونا قومی مفاد میں نہیں تھا مگر اس دوراں شہباز گِل کو روکا نہیں گیا۔

یہ بھی پڑھیں: فوج اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دینے کو تیار نہیں، پی ٹی آئی کا الزام

یاد رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں نے شہباز گل کی گرفتاری کو اغو قرار دیا تھا۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے بھی ٹوئٹر پر واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے گرفتاری کے بجائے 'اغوا' قرار دیا تھا۔

سابق وزیراعظم نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا تھا کہ کیا ایسی شرمناک حرکتیں کسی جمہوریت میں ہو سکتی ہیں؟ سیاسی کارکنوں کے ساتھ دشمن جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ یہ سب بیرونی پشت پناہی سے مسلط کی جانے والی مجرموں کی سرکار کو ہم سے تسلیم کروانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

شہباز گل کا متنازع بیان

گزشتہ روز پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل 'اے آر وائی' نیوز کو اپنے شو میں سابق وزیرِا عظم عمران خان کے ترجمان شہباز گل کا تبصرہ نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا بیان 'مسلح افواج کی صفوں میں بغاوت کے جذبات اکسانے کے مترادف تھا'۔

اے آر وائی کے ساتھ گفتگو کے دوران ڈاکٹر شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت، فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'فوج میں ان عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں جس سے حکومت کا غصہ بڑھتا ہے'۔

انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا ’اسٹریٹجک میڈیا سیل‘ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور مسلح افواج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔

شہباز گل نے کہا تھا کہ جاوید لطیف، وزیر دفاع خواجہ آصف اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق سمیت دیگر حکومتی رہنماؤں نے ماضی میں فوج پر تنقید کی تھی اور اب وہ حکومتی عہدوں پر ہیں۔

پیمرا کی جانب سے نوٹس میں کہا گیا کہ اے آر وائی نیوز پر مہمان کا دیا گیا بیان آئین کے آرٹیکل 19 کے ساتھ ساتھ پیمرا قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں