بھارت: بلقیس بانو گینگ ریپ کیس، عمر قید کی سزا ملنے والے 11 مجرم جیل سے رہا

اپ ڈیٹ 17 اگست 2022
<p>بلقیس بانو اور ان کے شوہر– فوٹو: اتل یادیو</p>

بلقیس بانو اور ان کے شوہر– فوٹو: اتل یادیو

بھارت میں بلقیس بانو گینگ ریپ کیس میں عمر قید کی سزا ملنے والے 11 افراد کو گودھرا جیل سے رہا کر دیا گیا، گجرات حکومت نے ان کی معافی کی درخواست منظور کر لی۔

‘انڈین ایکسپریس’ کی رپورٹ کے مطابق گجرات کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے داخلہ راج کمار نے بتایا کہ حکومت نے معافی کی درخواست پر غور کیا کیونکہ مجرموں نے 14 سال جیل میں گزارے، اس کے ساتھ دیگر عوامل جیسے عمر، جرم کی نوعیت، جیل میں ان کے رویوں کو بھی دیکھا گیا۔

بلقیس بانو کو 3 مارچ 2002 کو گجرات میں فسادات کے دوران گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا، وہ اس وقت 19 سال کی اور حاملہ تھیں۔

احمد آباد کے قریب فسادیوں نے ان کی 3 سالہ بیٹی سمیت خاندان کے 14 افراد کو قتل کر دیا تھا، ایک آدمی نے بچی کو ماں کے بازو سے چھین کر اس کا سر پتھر پر مار دیا تھا۔

2002 کے فسادات میں 1 ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، بڑے پیمانے پر ہونے والے پُرتشدد واقعات میں بلقیس بانو کا کیس سب سے ہولناک تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: عدالت کا گینگ ریپ متاثرہ خاتون کو 50 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم

منگل کو سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مجرموں کی رہائی کے بعد رشتہ داروں کی طرف سے ان کا استقبال مٹھائی کھلا کر کیا جا رہا ہے جبکہ رشتہ داروں نے ان کے پاؤں بھی چھوئے۔

ملزمان کو 2008 میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کی خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

راج کمار نے وضاحت کی تھی کہ قانون کے مطابق عمر قید کا مطلب کم از کم 14 سال قید کی سزا ہے، جس کے بعد مجرم معافی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اہلیت کے ساتھ ساتھ جیل ایڈوائزری کمیٹی اور ضلعی قانونی حکام کی سفارشات کی بنیاد پر قبل از وقت رہائی کا فیصلہ کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: گجرات فسادات: گینگ ریپ کی متاثرہ مسلم خاتون نے قانونی جنگ جیت لی

رپورٹ کے مطابق ایک مجرم رادھی شیام شاہ نے 14 سال قید کاٹنے کے بعد معافی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

کمیٹی کی سربراہی کرنے والے پنچ محل ضلع کے کلکٹر سوجل مایاترا نے بتایا کہ مئی میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت سے درخواست پر فیصلہ کرنے کو کہا تھا جس کے بعد اس معاملے کو دیکھنے کے لیے ایک پینل تشکیل دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ قبل تشکیل کردہ کمیٹی نے اس کیس کے تمام 11 مجرموں کی سزا معاف کرنے کے حق میں متفقہ فیصلہ کیا تھا، جس کی سفارش حکومت کو بھیجی گئی تھی، اور کل ہمیں ان مجرموں کی رہائی کے احکامات موصول ہوئے۔

متاثرین کی نظام پر کم ہوتی امیدیں

فسادات کے متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکیل شمشاد پٹھان نے بتایا کہ گینگ ریپ کیس سے کم گھناؤنے جرائم کرنے والے مجرموں کی بڑی تعداد جیلوں میں بند ہے، انہیں معافی نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: گجرات مسلم کش فسادات: بھارتی کمیشن نے مودی کو کلین چٹ دےدی

ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت کوئی ایسا فیصلہ کرتی ہے تو سسٹم پر متاثرین کی امیدیں کم ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو ان کی معافی پر غور کرنے کی ہدایت دی تھی، اس کے باوجود معافی کی اجازت دینے کے خلاف غور کرنا چاہیے تھا۔

متاثرہ خاتون بلقیس بانو کے شوہر یعقوب رسول نے بتایا کہ انہیں میڈیا سے پتا چلا کہ مجرموں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ مجرموں نے معافی کی درخواست کب کی اور کس فیصلے کے بعد ریاستی حکومت نے اس پر غور کیا، ہم صرف فسادات میں جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے والے اپنے قریبی عزیزوں کی روح کے سکون کے لیے دعا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر روز ان فسادات میں مارے گئے لوگوں کو یاد کرتے ہیں جن میں ہماری بیٹی بھی شامل تھی۔

مزید پڑھیں: بھارت: کم عمر لڑکی کے ریپ پر پادری کو 20 سال قید کی سزا

4 مئی 2017 کو بمبئی ہائی کورٹ نے جنوری 2008 کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا جس میں 11 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم بنچ نے کہا تھا کہ چونکہ مجرم مقدمے کی سماعت سے قبل 4 سال 6 مہینے حراست میں گزار چکے ہیں، اس لیے انہیں چھوڑ دینا چاہیے۔

اپریل 2019 میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے گجرات حکومت کو مسلم کش فسادات کی ایک متاثرہ خاتون بلقیس یعقوب رسول بانو کو سرکاری ملازمت، 50 لاکھ روپے اور پسند کی جگہ پر گھر فراہم کرنے کا حکم دیا تھا، یہ مبینہ طور پر بھارت میں ریپ سے متاثرہ خاتون کو دیا جانے والا سب سے زیادہ معاوضہ تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں