امریکی نژاد پاکستانیوں کا پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر سیلاب کی متاثرین کی مدد پر زور

27 اگست 2022
کمیونٹی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں چندہ دینے کی اپیل زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوگی —فائل فوٹو: اے ایف پی
کمیونٹی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں چندہ دینے کی اپیل زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوگی —فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان نے امریکی مقیم ہم وطنوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بھر میں بارش اور سیلاب کے متاثرین کی مدد کریں، جبکہ کمیونٹی رہنماؤں نے لوگوں سے کہا کہ وہ اس قدرتی آفت کے دوران 'پارٹی سیاست کو ایک طرف رکھ دیں'۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے لیے پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کمیونٹی کے نام ایک خط میں کہا کہ 'میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان میں مصیبت زدہ کمیونٹیز کی مدد کے لیے آگے بڑھیں، ان کے مصائب کو دور کریں اور پناہ گاہ، خوراک، صحت کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے ان کی ضروریات کو پورا کریں۔'

سفیر کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ اب تک جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے 66 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید بارش سے دیگر علاقوں میں بھی تباہی کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہم پر فرض ہے، 9999 پر میسیج کرکے 10 روپے عطیہ دیں، وزیر خزانہ

قبل ازیں جمعہ کے روز خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے متعدد اضلاع میں فوری طور پر برسات ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے سوات میں 'اونچے سے بہت اونچے سیلاب' کی وارننگ بھی دی تھی۔

خیال رہے کہ رواں برس سندھ اور بلوچستان میں 1961 کے بعد سب سے زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں اور دونوں صوبوں میں جمعرات تک سالانہ بارش کے معمول سے بالترتیب 522 اور 469 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔

سفیر مسعود خان نے کہا کہ 'پاکستان میں انسانی جانوں اور مویشیوں کو اندوہناک نقصان پہنچا ہے اور انفرااسٹرکچر بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، روزگار کی صورتحال درہم برہم، فصلیں تباہ اور پورے پورے علاقے زیر آب آگئے، آفت کی شدت اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔'

اس کے بعد انہوں نے اپیل کی کہ 'اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے جو بھی رقم آپ وزیراعظم کے فلڈ ریلیف فنڈ 2022 میں بھیج سکتے ہیں، بھیجیں۔

مزید پڑھیں: مدد کے منتظر افراد کے سیلاب میں ڈوبنے کی ویڈیو نے دل دہلا دیے

تاہم کمیونٹی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں چندہ دینے کی اپیل زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوگی کیونکہ پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی بھاری اکثریت عمران خان کی حمایت کرتی ہے۔

البتہ رہنماؤں نے برادری پر زور دیا کہ وہ پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر سیلاب زدگان کی مدد پر توجہ دیں۔

ڈاکٹر خالد عبداللہ، جو فزیشنز فار سوشل ریسپانسیبلٹی نامی بین الاقوامی تنظیم کے واشنگٹن چیپٹر کے سربراہ ہیں، نے فوری امداد پر توجہ مرکوز کرنے اور'ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیت کو بڑھانے' پر مشورہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مون سون کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی سیلاب، ایسی چیزیں معمول ہیں اور اب تک، ہمیں ضرورت سے زیادہ پانی جذب کرنے اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: تصاویر: ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں

وہ جس تنظیم کے سربراہ ہیں وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے میں مہارت رکھتی ہے اور اس نے اپنی کوششوں کے لیے دو نوبل امن انعام بھی جیتے ہیں۔

ڈاکٹر طلحہ صدیقی 'اپنا' نامی پاکستانی ڈاکٹروں کے سب سے بڑے گروپ سے وابستہ ہیں، انہوں نے متاثرین کے لیے 'پیسے، خیمے اور ادویات بھیجنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے پاکستان میں حکام کو سیلاب کے بعد ہونے والی متعدی بیماریوں کے لیے تیار رہنے کے لیے بھی خبردار کیا کہ 'جو اکثر سیلاب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں'۔

ادھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) واشنگٹن ورجینیا چیپٹر کے سربراہ جانی بشیر نے کہا کہ 'نہیں، یہ پارٹی سیاست کا وقت نہیں ہے'، انہوں نے یاد دلایا کہ 2005 کے زلزلے کے دوران واشنگٹن کے بڑے علاقے میں کمیونٹی نے سامان کے دو کنٹینرز پاکستان بھیجے تھے اور ہم دوبارہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی تنظیموں، مالیاتی اداروں کا سیلاب متاثرین کیلئے 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

ادھر ورجینیا کے لیے مسلم لیگ (ن) کے چیف آرگنائزر نوید اختر نے بھی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کوئی پارٹی سیاست نہیں، ہمیں سیاست کو ایک جانب رکھ کر پاکستانی بن کر کام کرنا چاہیے، ہمیں یہ دیکھنے کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے کہ وہاں کس چیز کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی امریکن بزنس ایسوسی ایشن کے ایک رکن ضیا حسن نے بھی کہا کہ 'کوئی پارٹی سیاست نہیں، ہمیں اکٹھا ہونا چاہیے، فنڈ ریزنگ کریں، سب کو مدعو کیا جائے، یہ کمیونٹی پر مبنی کوشش ہونی چاہیے۔'

ضرور پڑھیں

کیا زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے؟

کیا زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے؟

زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے۔ تلفظ اور معنی کے رشتے کو ضرور ملحوظ رکھا جانا چاہیے اور ہمیں لہجوں کی مقامیت مزاح میں استعمال کرتے ہوئے لسانی و ثقافتی بالادستی کا تاثر نہیں دینا چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں