بھارت سے فوری طور پر درآمدات زیر غور نہیں، دفتر خارجہ

01 ستمبر 2022
<p>—فائل فوٹو: دفترخارجہ</p>

—فائل فوٹو: دفترخارجہ

دفتر خاجہ نے واضح کیا ہے کہ بھارت سے سبزیاں برآمد کرنے کی اجازت دینے کے لیے پاکستان کے پاس اس وقت کوئی تجویز زیر غورنہیں ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں سبزیوں کی درآمد کی سہولت کے لیے خطے کے ممالک سے رابطے میں ہیں۔

مزید پڑھیں: دفتر خارجہ کی بھارت میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی مذمت

ترجمان دفتر خارجہ کا بیان وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کے اس بیان کے بعد آیا ہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے فصلوں کی تباہی کے بعد لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت بھارت سے سبزیاں اور دیگر اشیا کی درآمد پر غور کر سکتی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ سبزیوں کی قلت کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، جس پر انہوں نے محکمہ تجارت اور خزانہ کے سیکریٹریوں سے بات کی ہے۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا تھا کہ ہم ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے کر آسانی پیدا کریں گے اور ہم بھارت سے سبزیوں کی درآمد زمینی سرحد کے ذریعے کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں کیونکہ سبزیوں کی یہ قیمتیں پائیدار نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین استعال ہونے کی ایک بار پھر مذمت

یاد رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات باضابطہ طور پر اسرائیل کی سطح پر محدود کر دیا تھا، جس کے ساتھ اسلام آباد کے کوئی تجارتی تعلقات نہیں ہیں، یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بھارتی فیصلے کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا تھا۔

###مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے قتل پر احتجاج

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 6 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے اور آج عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی پہلی برسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ناظم الامور کو آج دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور سید علی گیلانی کی باوقار تدفین نہ ہونے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا،

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی بربریت اور غیر اخلاقی مظالم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جذبات کو دبا نہیں سکتے۔

مزید پڑھیں: دفتر خارجہ نے بھارت،امریکا مشترکہ بیان میں پاکستان سے متعلق ‘بے بنیاد حوالہ’ مسترد کردیا

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں مقید دو کشمیریوں کے معاملے کو نئی دہلی میں ہمارا مشن دیکھ رہا ہے اور اسی طرح عصمت علی کا نام یکم جولائی 2022 کو قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلے میں شامل تھا۔

ترجمان نے کہا کہ دوسرے قیدی خیام مقصود کے حوالے سے بھی مشن نے معاملہ بھارتی وزارت خارجہ کے سامنے اٹھایا ہے، بھارت سے فوری طور پر سیلاب متاثرین کے لیے سبزیاں یا دیگر اشیا درآمد کرنے کا معاملہ زیر غور نہیں ہے۔

خیال رہے کہ کشمیری حریت پسند رہنما سید علی گیلانی 11 سال تک گھر میں نظر بند رہنے کے بعد گزشتہ برس 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

سید علی گیلانی 1960 کی دہائی کے اوائل سے ہی بھارت کے لیے ناپسندیدہ ٹھہرے تھے جب انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی مہم شروع کی تھی۔

انہوں نے کشمیر اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے اپنے حریت پسندوں کی سربراہی بھی کی تھی۔

مزید پڑھیں: دفتر خارجہ نے آزاد جموں و کشمیر الیکشن کے حوالے سے بھارتی الزامات مسترد کردیے

واضح رہے کہ جس دن سید علی گیلانی کا انتقال ہوا تھا اس دن بھارتی فوجیوں نے سری نگر کے مرکزی شہر میں ان کے گھر کی طرف جانے والی سڑکوں پر خاردار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں جبکہ سینکڑوں سیکورٹی فورسز کو فوری طور پر تعینات کر دیا گیا تھا اور کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ رابطے کے ذرائع بھی معطل کردیے تھے۔

دو دن بعد سید علی گیلانی کی لاش ان کے اہل خانہ سے چھین لی گئی اور سری نگر میں لاک ڈاؤن کے دوران ان کی مرضی کے برخلاف تدفین ہوئی تھی، جس کے بعد پاکستان نے جنازے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ بھارتی ناظم الامور کوطلب کرکے ان کو پاکستان کی جانب سے گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا کہ بھارتی حراست میں ان کی موت کو ایک سال گزرنے کے باوجود، بھارتی حکومت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی اور ان کی خواہش کے مطابق شہدا کے قبرستان میں باوقار تدفین کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ مزید افسوس ناک بات یہ ہے کہ کشمیریوں کو سری نگر کے حیدر پورہ کے قبرستان میں اپنے رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی جہاں انہیں بھارتی قابض افواج نے ان کے اہل خانہ اور پیروکاروں کی عدم موجودگی میں عجلت میں دفن کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، فضائی حدود کی خلاف ورزی پر احتجاج

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی ناظم الامور پر زور دیا گیا کہ وہ بھارتی حکومت تک حکومتِ پاکستان کا یہ پیغام پہنچائیں کہ کشمیری حریت رہنما کی احترام کے ساتھ ان کی خواہش کے مطابق شہدا کے قبرستان میں تدفین کی جائے اور ان کے اہل خانہ سمیت پیروکاروں کو ان کی آخری آرام گاہ پر خراج عقیدت پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ مسلسل ظلم او ستم اور ذاتی مشکلات کے باوجود مسئلہ کشمیر کے لیے حریت رہنما کی غیرمتزلزل وابستگی بے مثال تھی۔

مزید پڑھیں: بھارت کے ساتھ تعلقات کی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی، دفتر خارجہ کی بلاول بھٹو کے بیان پر وضاحت

عاصم افتخار نے کہا کہ سید علی گیلانی کو کشمیر اور پاکستان سے ان کی غیر مشروط محبت پر یاد رکھا جائے گا، ان کی میراث جموں و کشمیر پر غیر قانونی بھارتی قبضے کو ختم کرنے کے لیے ان کے مشن کو آگے بڑھانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہے گی۔

‘بھارت کیساتھ کرکٹ کھیلنے کیلئے تیار ہیں’

کرکٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ باہمی کرکٹ سیریز کھیلنے سے بھارت نے انکار کیا تھا، اگر وہ کھیلنا چاہیں گے تو ہم خیر مقدم کریں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں