کندھ کوٹ، دادو میں گیسٹرو اور ملیریا سے 12 سیلاب متاثرین جاں بحق

20 ستمبر 2022
<p>کئی بچے بارشوں کی وجہ سے پھوٹ جانے والی بیماریوں گیسٹرو اور ملیریا میں مبتلا ہیں— فائل فوٹو: وائٹ اسٹار</p>

کئی بچے بارشوں کی وجہ سے پھوٹ جانے والی بیماریوں گیسٹرو اور ملیریا میں مبتلا ہیں— فائل فوٹو: وائٹ اسٹار

دادو اور کندھ کوٹ کشمور اضلاع کے مختلف علاقوں میں گیسٹرو اور ملیریا سے مزید 12 سیلاب متاثرین لقمہ اجل بن گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں بیماریاں اب تک امدادی کیمپوں اور سیلاب زدہ علاقوں میں ناگفتہ بہ حالت میں رہنے والے بے گھر افراد میں اموات کی بڑی وجہ ثابت ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں کمی، حکام کو صورتحال جلد معمول پر آنے کی توقع

ذرائع نے بتایا کہ میہڑ شہر کے قریب سیتا گاؤں میں گیسٹرو اور ملیریا سے مرنے والے دو سیلاب متاثرین کی شناخت اکبر سولنگی اور امتیاز قمبرانی کے نام سے ہوئی۔

شفیع محمد کالونی میں آئی ڈی پیز کے لیے بنائے گئے ٹینٹ سٹی میں تین سالہ مصری کھوسو اور 10 سالہ رحیم چانڈیو میہڑ ٹاؤن میں بائی پاس کے قریب کیمپ میں دم توڑ گیا۔

ایک مقامی فنکار شاہ رخ خان اور ایک تاجر عطا محمد چانڈیو میہڑ میں گیسٹرو اور ملیریا سے جاں بحق ہو گئے اور واہی پاندھی قصبے کے نواحی گاؤں بخار جمالی میں دو خواتین امانت جمالی اور بدھی جمالی ملیریا سے چل بسیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کے این شاہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ان دو بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد اور گزشتہ پانچ دنوں میں آٹھ تک پہنچ گئی ہے اور میہڑ تعلقہ میں گزشتہ 30 دنوں میں اموات کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ سے امدادی سامان کی 2 ٹرینیں پاکستان پہنچ گئیں

دادو کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر احمد علی سمیجو نے بتایا کہ محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کی چھ ٹیمیں میہڑ اور ضلع کے دیگر 16 حصوں میں کام کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ ٹیموں نے گزشتہ 19 دنوں میں کل ایک لاکھ 35 ہزار مریضوں کا علاج کیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ ضلع میں شدید بارشوں اور سیلاب کے دوران بیماریوں اور سیلاب سے 39 بچوں سمیت کل 80 افراد ہلاک ہوئے۔

دادو کے ڈپٹی کمشنر نے سندھ حکومت کو جمع کرائی گئی اپنی رپورٹ میں کہا کہ لوگوں کی اموات بیماریوں کی وبا اور مکانات گرنے سے ہوئی ہیں، رپورٹ میں کہا گیا کہ کل 75ہزار670 مکانات بشمول 27ہزار788 سیمنٹ کے ڈھانچے منہدم ہوئے اور 97ہزار330 ایکڑ پر کھڑی فصلیں شدید بارش اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب میں بہہ گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان اور دریائے سندھ سے آنے والے سیلابی پانی سے 8لاکھ 49ہزار380 افراد براہ راست متاثر ہوئے جن میں ایک لاکھ 72ہزار 799 خاندان اور 4لاکھ 53ہزار 163 بچے شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: سیلاب کے باوجود پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا، مفتاح اسمٰعیل

ضلع کندھ کوٹ کشمور کے گاؤں سلیم جعفری میں دو سالہ سرداری جعفری اور تین سالہ نیاز جمال جعفری گیسٹرو کی وجہ سے انتقال کر گئے جبکہ یعقوب گاؤں میں تین سالہ عزیز اللہ بکرانی پیر کو اسی بیماری سے انتقال کر گئے۔

دیہاتیوں نے شکایت کی کہ کئی بچے بارشوں کی وجہ سے پھوٹ جانے والی بیماریوں گیسٹرو اور ملیریا میں مبتلا ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی طبی ٹیم نے بیمار بچوں کے علاج کے لیے ان علاقوں کا دورہ نہیں کیا۔

تبصرے (0) بند ہیں