ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں سماعت، متعدد افراد کو فریق بننے کی اجازت

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2022
<p>خواجہ سرا ببلی ملک نے عدالت کو مشورہ دیا کہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ماہر کی رائے ضرور لیں—فوٹو: وائٹ اسٹار</p>

خواجہ سرا ببلی ملک نے عدالت کو مشورہ دیا کہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ماہر کی رائے ضرور لیں—فوٹو: وائٹ اسٹار

وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کو ‘اسلامی احکام کے منافی’ قرار دے کر چیلنج کرنے والے متعدد افراد کو اس قانون کے خلاف درخواستوں میں فریق بننے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد 2018 میں نافذالعمل ہونے والے اس قانون کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے خلاف دائر کردہ درخواست میں پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر، جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اور خواجہ سرا الماس بوبی نے استدعا کی تھی کہ درخواستوں پر سماعت کے دوران انہیں اپنے دلائل دینے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: لڑکی کی جنس تبدیلی کی درخواست، عدالت کا خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم

عدالت نے ٹی وی اینکر اوریا مقبول جان، عائشہ مغل اور ببلی ملک کو بھی ان درخواستوں میں فریق بننے کی اجازت دے دی۔

وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اپیلیں منظور کیں۔

قومی اسمبلی نے ٹرانس جینڈر کو قانونی شناخت دینے کے لیے ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹ) ایکٹ منظور کیا تھا، اس ایکٹ کے تحت خواجہ سراؤں کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک کرنے والا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔

مزید پڑھیں: خواجہ سرا کی شناخت کے مسئلے پر نظریاتی کونسل کی سفارشات مسترد

یاد رہے کہ یہ قانون 25 ستمبر 2012 کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بنایا گیا تھا، اس قانون میں کہا گیا تھا کہ خواجہ سراؤں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جن کی آئین ضمانت دیتا ہے، خواجہ سرا معاشرے کے دیگر افراد کی طرح حسب معمول زندگی گزار سکتے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا تھا، یہ درخواست اسلامی ماہر قانون ڈاکٹر محمد اسلم خاکی کی طرف سے دائر کی گئی تھی، جس میں ‘ہرمافروڈائٹ بچوں’ کی آزادی کی درخواست کی گئی تھی تاکہ وہ بھیک مانگنے، ناچنے اور جسم فروشی کے بجائے ‘باعزت طریقے’ سے زندگی بسر کر سکیں۔

سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس نے مشاہدہ کیا کہ کیس کا اصل مقصد ٹرانسجینڈر کمیونٹی کو ‘حقیقی تحفظ اور حقوق’ فراہم کرنا ہے، قانونی حقوق اُن لوگوں کو ملنے چاہئیں جو اس کے مستحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: خواجہ سراؤں کیلئے صحت کارڈ جاری

اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ ٹرانس جینڈر قانون میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے، ان قوانین سے ایل جی بی ٹی (ہم جنس پرستوں، دو جنسی اور خواجہ سرا) کی وکالت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

خواجہ سرا ببلی ملک نے عدالت میں ٹرانس جینڈر اور ایل جی بی ٹی کے درمیان فرق کی وضاحت کی، انہوں نے عدالت کو تجویز دی کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ماہرین کی رائے ضرور لیں۔

ایک اور خواجہ سرا نایاب علی نے عدالت سے استدعا کی کہ سوشل میڈیا کو اس معاملے پر بحث کرنے سے روکا جائے کیونکہ حال ہی میں پشاور میں 3 خواجہ سراؤں کو قتل کردیا گیا تھا۔

خواجہ سرا کی نمائندہ اور لیکچرر عائشہ مغل نے وفاقی شرعی عدالت سے استدعا کی کہ یہ قانون اسلامی احکامات کی منافی نہیں ہے اور نہ ہی ہم جنس پرستوں کے حامیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں