دنیا کو پاکستان کی مدد کیلئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، عہدیدار امریکی محکمہ خارجہ

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2022
<p>کونسلر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ایسی تباہی ہے جس کو سمجھنا بہت مشکل اور پریشان کن ہے—فوٹو:ٹوئٹر</p>

کونسلر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ایسی تباہی ہے جس کو سمجھنا بہت مشکل اور پریشان کن ہے—فوٹو:ٹوئٹر

رواں ماہ کے شروع میں ملک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ دنیا کو اس وقت پاکستان کی امداد کے لیے قدم بڑھانے اور مشکل کی اس گھڑی میں اس کا ساتھ دینے کی کی ضرورت ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے کونسلر ڈیرک شولے نے ڈان کو بتایا کہ ایسی تباہی ہے جس کو سمجھنا بہت مشکل اور پریشان کن ہے۔

ڈیرک شولے نے خبردار کیا کہ بدترین صورتحال سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سینئر امریکی عہدیدار نے اپنا دورۂ پاکستان ‘انتہائی نتیجہ خیز’ قرار دے دیا

انہوں نے کہا کہ سیلاب اور لاکھوں لوگوں کا بے گھر ہونا ایسا بحران ہے جس کا پاکستان کو بہت جلد سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ جلد سامنے والا یہ بحران لوگوں کے کافی عرصے تک پانی میں گھرے رہنے کے باعث پاکستان کے لیے درمیانی سے طویل مدت تک درپیش رہنے والا بحران بھی ہے۔

ڈیرک شولے نے کہا کہ یہ بحران فصلوں کو تباہ کرنے والا ہے، اس کے دوران بیماریاں اور دیگر طبی مسائل پیدا ہوں گے جن سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی صحت سے متعلق دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی، یہ واضح ہے کہ سیلاب کے باعث پاکستان میں اہم فصلیں بڑے پیمانے پر تباہ ہوجائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کو تقریباً 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کی اور امدادی سامان سے بھرا فوجی طیارہ بھی بھیجا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کا سیلاب زدہ علاقوں میں آبی امراض سے نمٹنے کیلئے امداد کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ یہ امداد وہ چیز ہے جس پر ہمیں بطور ایک دنیا کے توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اس مایوس کن وقت میں پاکستان کی مدد کی جا سکے۔

اس سوال پر کیا وہ عالمی برادری کے رد عمل سے مطمئن ہیں،ڈیرک شولے نے کہا کہ آنے والے کئی مہینے پاکستان میں بہت سے لوگوں کے لیے بہت مشکل ہونے والے ہیں، انہیں اپنی زندگی ، اپنے گھر بار کو بحال کرنے کی کوشش کرنی ہے، اس تمام صورتحال میں دنیا کو پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ضرورت ہے۔

بدقسمتی سے یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا انسانی بحران ہے، پاکستان نے حالیہ برسوں میں بڑی انسانی تباہی کا سامنا کیا ہے، امریکا سمیت تمام ممالک اس قسم کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، ہمارے ملک نے بھی کئی تباہ کن سیلابوں یا جنگلات میں لگنے والی آگ کے واقعات کا سامنا کیا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں ہونے والے نقصان اور تباہی کا پیمانہ اور دائرہ کچھ اتنا وسیع اور بڑا ہے کہ ہم سب کو آنے والے کئی مہینوں تک آگے بڑھ کر مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران امریکا عالمی برادری کو پاکستان کی مدد جاری رکھنے پر راغب کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے متاثرہ تاریخی ورثوں کی بحالی کے لیے یونیسکو کا ساڑھے 3لاکھ ڈالر امداد کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ ہم سیلاب کی صورتحال پر توجہ مرکوز رکھیں گے اور پاکستان میں اپنے دوستوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے پاکستان کی خراب معاشی صورتحال کے پیش نظر اس کے قرضوں کو ری شیڈول کرنے کی اپیل سے متعلق سوال کے جواب میں ڈیرک شولے نے کہا کہ اس تمام معاملے کو دیکھنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ ماہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں بہت مثبت کردار ادا کیا، آئی ایم ایف کا حالیہ پروگرام بہت اہم ہے لیکن جہاں تک پاکستان کی معاشی صورتحال ہے تو واضح طور پر سیلاب پاکستانی حکومت کو درپیش اہم چیلنج کو مزید بڑھا دے گا۔

اس سوال پر کہ کیا امریکا پاکستان کے قرضوں پر نظر ثانی یا ری شیڈول کرنے کے مطالبے کی حمایت کرے گا، ڈریک شولیٹ نے کہا کہ میں قبل از وقت کوئی ایس بات نہیں کہنا چاہتا لیکن ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کی مدد کیسے کی جائے گی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں