احتجاج کرنے والے کسانوں کا ہزاروں کی تعداد میں دوبارہ اسلام آباد کی طرف مارچ

29 ستمبر 2022
<p>اسلام آباد انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ کسان پنجاب بھر سے آئے ہیں—تصویر: محمد عاصم</p>

اسلام آباد انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ کسان پنجاب بھر سے آئے ہیں—تصویر: محمد عاصم

کسان اتحاد کے بینر تلے پنجاب کے 25 ہزار سے زائد کسان اپنے مطالبات کی تکمیل کے لیے دوبارہ دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 144 نافذ تھی لیکن 21 ستمبر کے بعد سے کسان دو مرتبہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں جب کہ خیبرپختونخوا کے اساتذہ بھی تین روز قبل دارالحکومت میں داخل ہوئے اور بنی گالہ میں احتجاج کیا۔

مظاہرین کے دارالحکومت کی سرحد پر پہنچنے پر ریڈ زون کے کچھ داخلی راستے کھول دیے گئے تھے جنہیں چند ہی گھنٹوں بعد بند کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کسان اتحاد اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب، احتجاج ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ کسان پنجاب بھر سے آئے ہیں اور انہوں نے ٹیوب ویل کے بجلی کے 5.3 روپے فی یونٹ کے پرانے ٹیرف کو بحال کرنے کے علاوہ تمام ٹیکسز اور ایڈجسٹمنٹس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ کسانوں نے کہا کہ کھاد کی بلیک مارکیٹنگ کو ختم اور یوریا کی قیمتمیں کم کی جائیں جو 400 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔

افسران نے مزید بتایا کہ مظاہرین گندم کا ریٹ 2400 روپے فی من اور گنے کا ریٹ 280 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اس کے علاوہ کسانوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ نہروں کی بندش دور کی جائے اور علاقے میں فوری طور پر پانی چھوڑا جائے، ساتھ ہی زراعت کو بھی صنعت کا درجہ دیا جائے۔

مزید پڑھیں: ریور راوی منصوبے کیلئے کھیتوں کی زمین پر ’غیر قانونی قبضے‘ کے خلاف کسانوں کا احتجاج

قبل ازیں دارالحکومت پولیس نے ریلی کی اطلاع ملنے پر سڑکوں پر کنٹینرز لگا کر ٹی کراس روات کو اور اسلام آباد ایکسپریس وے سے ملحقہ انٹر چینجز اور سڑکوں کو بھی کنٹینرز سے سیل کر دیا۔

صبح دارالحکومت کی پولیس نے ڈی چوک سمیت ریڈ زون کے داخلی راستے کو کھول دیا تھا اور ٹی کراس پر کسانوں سے مذاکرات کیے گئے تھے۔

بعد ازاں ڈھائی ہزار سے زائد کسان 40 بسوں، 29 کوسٹرز، چھ ویگنوں، 11 اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں اور 18 کاروں پر سفر کرتے ہوئے جناح ایونیو پہنچے تھے۔

ادھر پولیس نے مارگلہ روڈ کے علاوہ ریڈ زون کے تمام داخلی راستوں کو بھی فوری طور پر سیل کر دی جبکہ مارگلہ روڈ پر لوگوں کا داخلہ ممنوع اور زیر نگرانی کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنی گالا: عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی موجودگی، اسلام آباد پولیس کی وضاحت

جناح ایونیو انڈر پاس/انٹر چینج پر پہنچنے کے بعد مظاہرین نے وہاں دھرنا دیا، جس کے نتیجے میں فیصل ایونیو کو G-8 سے F-8 تک عوام کے لیے بند کر دیا گیا۔

افسران کے مطابق مظاہرین فیصل ایونیو پر خیابان چوک سے جی ایٹ موڑ تک موجود تھے۔

مظاہرین کے خیابان چوک پہنچنے کے بعد وہاں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی، افسران نے کہا کہ دارالحکومت انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران کی جانب سے ان سے مذاکرات کی کوششیں کی جا رہی تھیں لیکن ان کے رہنماؤں نے تعاون کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے کسی خاص عہدیدار یا وزیر سے مذاکرات کا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا کیوں کہ مظاہرین سے ان کے مطالبات کی نوعیت پر بات چیت کرنا وزیروں یا سیاست دانوں کا کام ہے۔

دوسری جانب بنی گالہ میں خیبرپختونخوا کے اساتذہ اب بھی احتجاج کر رہے ہیں اور منگل کی رات انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے گھر پہنچنے کی کوشش کی، پولیس کا کہنا ہے کہ عمران خان کے گھر کے اندر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں