آنجہانی ملکہ الزبتھ کی موت کی وجہ 'بڑھاپا' قرار

اپ ڈیٹ 30 ستمبر 2022
<p>ملکہ الزبتھ دوئم نے 1952 کے بعد 70 سال تک سربراہ مملکت کی حیثیت سے حکومت کی — فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

ملکہ الزبتھ دوئم نے 1952 کے بعد 70 سال تک سربراہ مملکت کی حیثیت سے حکومت کی — فائل فوٹو: اے ایف پی

آنجہانی ملکہ برطانیہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملکہ الزبتھ دوئم 8 ستمبر کو سہ پہر 3 بج کر 10 منٹ پر 'بڑھاپے' کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔

ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 96 سالہ ملکہ کا انتقال اسکاٹش ہائی لینڈز میں واقع بالمورل کیسل اسٹیٹ میں ہوا اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ انتقال کی خبر سامنے آنے سے ساڑھے تین گھنٹے قبل ہی ملکہ اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔

مزید پڑھیں: ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

الزبتھ برطانوی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک شاہی مسند سنبھالنے والی ملکہ رہیں اور انہوں نے 1952 کے بعد 70 سال تک سربراہ مملکت کی حیثیت سے حکومت کی۔

اسکاٹ لینڈ کے نیشنل ریکارڈز کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی موت 16 ستمبر کو ملکہ کی اکلوتی بیٹی شہزادی این نے رجسٹر کی تھی۔

شہزادی این نے 13 ستمبر کو بکنگھم پیلس سے جاری ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنی والدہ کی زندگی کے آخری 24 گھنٹوں کے دوران وہ ان کے ساتھ ہی موجود تھیں۔

سرٹیفکیٹ میں ملکہ کی موت کے مقام کی جگہ پر 'بالمورل کیسل' لکھا ہوا ہے اور اگر ملکہ کی موت انگلینڈ میں ہوتی تو اسے رجسٹر کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی کیونکہ یہ قانون صرف رعایا پر لاگو ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 1997ء میں دورہ پاکستان پر ملکہ الزبتھ کس بات سے ناراض ہوئیں؟

لیکن 1836 سے لاگو یہ قانون اسکاٹ لینڈ میں لاگو نہیں ہوتا جس کا انگلینڈ اور ویلز کے مقابلے میں الگ قانونی نظام ہے اور وہاں یہ شرط ہے کہ 'ہر شخص کی موت' کا اندراج کیا جائے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں