ای سی سی اجلاس: کے الیکٹرک کیلئے بجلی 51 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری

01 اکتوبر 2022
<p>وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا—تصویر: پی آئی ڈی</p>

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا—تصویر: پی آئی ڈی

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے پہلے اجلاس میں کے الیکٹرک صارفین کے لیے ٹیرف میں 51 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاور ڈویژن نے کے الیکٹرک کے لیے ٹیرف منطقی بنانے سے متعلق ایک سمری پیش کی۔

سمری میں بتایا گیا کہ نیپرا نے 29 جولائی کو پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ٖڈسکوز) کے لیے 2021-22 کی تیسری سہ ماہی کے لیے ٹیرف میں متواتر ایڈجسٹمنٹ کا تعین کیا تھا اور صارفین سے یکساں شرح وصول کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے صوبوں کو گندم کی فراہمی کی منظوری دے دی

نیشنل الیکٹرسٹی پالیسی 2021 کے تحت حکومت کے الیکٹرک اور سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے صارفین کے لیے یکساں ٹیرف برقرار رکھ سکتی ہے۔

ای سی سی نے 0.5087 روپے فی یونٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے ٹیرف ریشنلائزیشن کی منظوری دے دی جس میں ملک بھر میں یکساں ٹیرف برقرار رکھنے کے لیے کے الیکٹرک کے لیے 3 ماہ کی ریکوری مدت ہوگی۔

فیصلے کے تحت پاور ڈویژن کو گزیٹ نوٹیفکیشن کے لیے ٹیرف کا نظرثانی شدہ شیڈول جاری کرنے کے لیے نیپرا سے رجوع کرنے کی اجازت دی گئی، اس طرح کی ایڈجسٹمنٹ یکم اکتوبر سے تین مہینوں میں وصول کی جائیں گی’۔

اس کے علاوہ اجلاس میں وزارت تجارت نے 22 جولائی سے 19 اگست تک وزارت تجارت کے جاری کردہ آفس میمورنڈا (او ایم) کی روشنی میں پھنسے ہوئے درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے حوالے سے ایک سمری پیش کی۔

مزید پڑھیں: لگژری اشیا کی درآمد پر عائد پابندی میں نرمی کردی گئی

ای سی سی نے بحث کے بعد پہلے ممنوعہ قرار دی گئی اشیا کی کنسائنمنٹس کے اجرا کی اجازت دی جن کے لیے 22 اگست کو یا اس کے بعد 22 جولائی، 19 اگست اور 23 اگست کے ایم او سی کے او ایم میں موجود سرچارجز کی شرحوں پر گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) دائر کیا گیا تھا۔

اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار نے درآمدی یوریا کی قیمتوں کے تعین کے لیے سمری پیش کی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو سینوکیم فرٹیلائزر اور سی این اے ایم پی جی سی سے 2 لاکھ ٹن دانے دار یوریا درآمد کرنے کی اجازت دی جائے جس پر آنے والی لاگت کا تخمینہ 27 ارب 33 کروڑ 30 لاکھ روپے ہوگا۔

ای سی سی نے تفصیلی بحث کے بعد صوبوں کے ساتھ درآمدی یوریا پر سبسڈی کا نصف حصہ بانٹ کر 50 کلوگرام کے درآمدی یوریا کے تھیلے کی ڈیلر ٹرانسفر پرائس ( ڈی ٹی پی) 2 ہزار 150 روپے اور 620.47 روپے فی بیگ حادثاتی چارجز کی منظوری دی۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی نے تیل کی مصنوعات کے پورٹ چارجز میں اضافے کی اجازت دے دی

علاوہ ازیں پیٹرولیم ڈویژن کی تجویز پر ای سی سی نے زاویر پیٹرولیم کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ (زیڈ پی سی ایل) کی بنوں ویسٹ بلاک میں اورینٹ پیٹرولیم انک (او پی آئی) کو کام کرنے کی پوری 10 فیصد ورکنگ انٹرسٹ کی تفویض کی درخواست کی منظوری دے دی، دونوں کمپنیاں ہاشو گروپ کی ملکیت ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں