مفتاح اسمٰعیل نے پاکستان کو ’ایک فیصد جمہوریت‘ قرار دے دیا

04 اکتوبر 2022
<p>سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل  —فائل فوٹو: فیس بک</p>

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل —فائل فوٹو: فیس بک

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے پاکستان کو ایک ’ایک فیصد جمہوریت‘ قرار دیا جو اپنے شہریوں کی بھاری اکثریت کو سماجی ترقی کے مواقع نہیں دیتا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایم اے پی) کے زیر اہتمام ایک ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ’کچھ بہت غلط‘ ہے۔

اسحٰق ڈار کی واپسی تک 6 ماہ کے لیے وزارت خزانہ میں ان کی جگہ سنبھالنے والے مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ’ایک فیصد اشرافیہ اس ملک کو کنٹرول کرتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم لیوی نہ بڑھانے پر مفتاح برہم، حکومتی فیصلہ غیرذمہ دارانہ قرار

امریکی ارب پتی بل گیٹس اور اسٹیو جابس کی مثال دیتے ہوئے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر دولت کمائی، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تقریباً تمام امیر پاکستانی وراثت میں ملنے والی دولت سے مستفید ہوتے ہیں۔

نصف گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی مفتاح اسمٰعیل کی غیر معمولی تقریر میں زیادہ تر ان باتوں کا اعادہ تھا جو انہوں نے حال ہی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن اور سی ایف اے سوسائٹی میں کی تھیں۔

ان کی آخری تقریر سے صرف ایک ہی چیز مختلف تھی کہ وہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی پر تبصرہ کرنے سے پیچھے ہٹ گئے جس پر نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ اسحٰق ڈار کی جانب سے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔

بعدازاں انہوں نے پریس کے سوالات نہیں لیے اور درجنوں کارپوریٹ اداروں کو انعام اور ٹرافیاں دینے کے بعد چلے گئے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی شرائط میں نرمی پر غیر رسمی آمادگی ظاہر کردی، مفتاح اسمعٰیل

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ (گزشتہ حکومت) نے عارضی اقتصادی ری فنانس سہولت کے تحت 5 کھرب 80 ارب روپے ایک فیصد امیر ترین پاکستانیوں میں تقسیم کیے تھے، حکومت خود 15 فیصد پر قرض لے رہی تھی لیکن امیر لوگوں کو صرف ایک فیصد پر پیسہ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ لیکویڈیٹی انجیکشن نے مشینری کی درآمد میں اضافہ کیا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھایا کیونکہ مقامی کاروباری گروپ صرف گھریلو استعمال کے لیے سامان تیار کرتے ہیں۔

نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ جب وہ وزیر خزانہ تھے تو ایک گروپ نے 5 لاکھ ٹن پولی پروپلین کی فیکٹری لگانے کے لیے ان سے تعاون کی درخواست کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: انتظامی معاملات کو ٹھیک کرنا ہوگا ورنہ معیشت نہیں سنبھلے گی، مفتاح اسمٰعیل

مفتاح اسمٰعیل کے الفاظ میں انہوں نے 20 سال کے لیے 20 فیصد ڈیوٹی تحفظ کا مطالبہ کیا تھا کیوں کہ کمپنی اپنے چینی ہم منصبوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔

سابق وزیر خزانہ نے آٹو سیکٹر کو اس کے کاروباری انداز پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو کئی دہائیوں سے برآمدات کے ذریعے ڈالر کمائے بغیر درآمدات پر زرمبادلہ خرچ کر رہا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں