پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2022
وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا — فوٹو: پی آئی ڈی ویب سائٹ
وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا — فوٹو: پی آئی ڈی ویب سائٹ

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی تو دارالحکومت میں فوج تعینات کی جائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ کے تمام انتظامات اور تیاریاں آخری مراحل میں ہونے کے دعوے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ گزشتہ روز وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے مارچ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: رانا ثنااللہ کے ساتھ مذاکرات کامیاب، کسانوں نے دھرنا ختم کردیا

سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ریڈ زون میں مظاہرین کے داخلے کو روکنے کے لیے پاک فوج کو تعینات کیا جائے گا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ احتجاجی لانگ مارچ کے دوران تمام اہم عمارتوں اور ریڈ زون میں واقع ڈپلومیٹک انکلیو کی سیکیورٹی پاک فوج کے حوالے کی جائے گی۔

فوجی دستوں کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا جائے گا، آرٹیکل 245 میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کرے گی اور جب اسے کہا جائے تو وہ شہری انتظامیہ کی مدد کے لیے قانون کے مطابق عمل کرے گی۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے حال ہی میں ٹیکسلا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مرتبہ ان کا لانگ مارچ حکومت کو ’سرپرائز‘ دے گا، حکومت کو ان کے پلان اور حکمت عملی کا کچھ علم نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: پشاور: عمران خان نے کارکنان سے آزادی مارچ سے متعلق حلف لے کر تیار رہنے کی ہدایت کردی

انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد مارچ کا مقصد حکومت کو قبل از وقت انتخابات کرانے پر مجبور کرنا ہے، سابق وزیر اعظم نے تاحال لانگ مارچ کی حتمی تاریخ نہیں دی لیکن وہ متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی کال پر اسلام آباد پہنچنے والے ’عوام کے سمندر‘ کو حکومت قابو نہیں کرسکے گی۔

اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ احتجاج کے دوران کیپیٹل پولیس فورس کی مدد کے لیے سندھ پولیس سمیت پیراملٹری فورسز جیسے پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے اہلکاروں کو بھی طلب کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے اجلاس کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس، سندھ پولیس، رینجرز اور ایف سی کے 30 ہزار اہلکار امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تعینات ہوں گے۔

اجلاس کے دوران سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے لانگ مارچ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، شرکا کو بتایا گیا کہ 15 سے 20 ہزار مظاہرین پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شریک ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی لانگ مارچ: صوبوں نے شرکت کی تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی، وزیر داخلہ

اجلاس میں پی ٹی آئی کے احتجاج کو مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے افراد اور تنظیموں کے خلاف ’کارروائی‘ کی باضابطہ طور پر منظوری دی گئی، احتجاج کے دوران اسلام آباد کی حدود میں اسلحہ رکھنے پر مکمل پابندی ہوگی۔

اجلاس میں مارچ کے دوران اسلام آباد کے رہائشیوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے، اسکولوں اور ہسپتالوں کو فعال رکھنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مارچ کرنے والوں کی مدد کرنے والے سرکاری ملازمین کی نشاندہی کی جائے گی اور ان کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں