قومی اسمبلی سے استعفوں پر پی ٹی آئی اراکین کا 'یو ٹرن'

اپ ڈیٹ 07 اکتوبر 2022
<p>اپریل میں عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا—فائل فوٹو: پی ٹی آئی ٹوئٹر</p>

اپریل میں عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا گیا—فائل فوٹو: پی ٹی آئی ٹوئٹر

قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف کی جانب سے استعفوں کی منظوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 10 ارکان اسمبلی کے مؤقف نے سیاسی حلقوں بالخصوص پارٹی کے مخالفین میں پائے جانے والے اس عام تاثر کو تقویت دی ہے کہ سابق حکمران جماعت اس معاملے کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے جن اراکین اسمبلی کے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی نے جولائی میں منظور کیے تھے، انہوں نے حیران کن طور پر اپنی پٹیشن میں 'اجتماعی استعفوں' کے بجائے 'اجتماعی خطوط' کی اصطلاح استعمال کی۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے اصل میں اسمبلی میں استعفے جمع ہی نہیں کرائے تھے، مزید درخواست گزاروں نے مؤقف اپنایا ہے کہ ان کے استعفے پی ٹی آئی کے تمام 123 قانون سازوں کے اجتماعی استعفوں سے مشروط تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جن پی ٹی آئی ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے وہ پارلیمنٹ میں بیٹھیں، جسٹس اطہر من اللہ

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے عہدیدار احمد بلال محبوب نے پی ٹی آئی کے درخواست گزاروں کے مؤقف کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی پہلے یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری ان کے استعفے پہلے ہی منظور کرچکے ہیں جو ایک حقیقت تھی۔

انہوں نے کہا کہ قاسم سوری نے استعفے منظور کرلیے تھے لیکن ان پر مزید کارروائی اس لیے نہیں ہوسکی تھی کیونکہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے انہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نہیں بھجوایا تھا اور بعد میں نئے اسپیکر نے اس عمل کو ریورس کردیا۔

احمد بلال محبوب نے پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی اس درخواست پر حیرت کا اظہار کیا کہ اسپیکر یا تو تمام 123 استعفے قبول کرلیں یا انہیں یکسر مسترد کردیں اور کہا کہ قوانین میں ایسی کوئی شق نہیں کہ استعفوں کو دوسروں کے استعفوں کی منظوری سے مشروط یا منسلک کیا جائے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ڈی سیٹ ہونے والے اراکینِ قومی اسمبلی نے اپنی درخواست میں کراچی سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالشکور شاد کے کیس کا بھی ذکر کیا جن کا استعفیٰ اسپیکر نے ان ارکان کے ساتھ منظور کیا تھا تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے ان کی رکنیت بحال کردی تھی۔ شکور شاد نے اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ ان کا استعفیٰ رضاکارانہ طور پر نہیں بھیجا گیا تھا، عدالت کا فیصلہ ان کے حق میں آنے کے بعد پی ٹی آئی شکور شاد کی پارٹی رکنیت معطل کرچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’اسپیکر استعفوں سے متعلق آئینی ذمہ داری پوری کریں‘، پی ٹی آئی ارکان کی عدالت میں درخواست

استعفوں کے معاملے پر قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تعینات باخبر سینئر اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ درخواست میں ایک اور تضاد وہاں موجود ہے جہاں پی ٹی آئی کے ارکان نے کہا ہے کہ اسپیکر نے ان کے خطوط کو استعفے سمجھ کر کارروائی کی اور انہوں نے ایسا کسی ضروری انکوائری یا تصدیق کے بغیر کیا۔

سینئر اہلکار نے یاددہانی کرائی کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے جون کے پہلے ہفتے میں پی ٹی آئی کے ہر رکن اسمبلی کو ذاتی حیثیت میں اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے پیش ہونے کا کہا تھا لیکن کوئی رکن اسپیکر کے سامنے پیش نہیں ہوا۔

انہوں نے تجویز دی کہ اگر پی ٹی آئی اراکین واقعی اسمبلی چھوڑ کر حکومت کو انتخابات کرانے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ جمعے سے شروع ہونے والے ایوان کے اجلاس میں آکر دوبارہ اپنے استعفے جمع کرائیں اور تنازع کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیں۔

اپنی درخواست میں پی ٹی آئی ارکان نے یہ بھی کہا کہ ان کے خطوط قانون کی نظر میں استعفے نہیں جبکہ یہ خطوط مشروط تھے اور اس مطالبے پر مبنی تھے کہ پارٹی کے مطالبات پورے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسپیکر کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور یہ ظاہر ہے کہ قانونی لحاظ سے وہ استعفوں پر کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے 123 اراکین کے استعفے منظور کرلیے، ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری

اس معاملے پر ردِعمل جاننے کے لیے جب پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے پارٹی کے مؤقف میں کوئی تضاد یا تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت ملک میں ضمنی انتخابات کروانا ہی نہیں چاہتی جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ حکومت نے 16 اکتوبر کو شیڈول ضمنی انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مبیّنہ طور پر فنڈز جاری نہیں کیے۔

فواد چوہدری نے اس خیال کو مسترد کردیا کہ استعفوں کے معاملے پر پی ٹی آئی کی جانب سے اپنایا گیا مؤقف حکومت کے لیے سودمند ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان کی عدم موجودگی کے باعث موجودہ قومی اسمبلی اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔

جب فواد چوہدری سے سوال کیا گیا کہ پی ٹی آئی اراکینِ اسمبلی استعفے جمع کرانے اور تنازع کو ختم کرنے کے لیے دوبارہ اسمبلی کیوں نہیں گئے تو ان کا کہنا تھا کہ پارٹی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھا چکی ہے اور وہ عدلیہ کے فیصلے کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی سمجھتی ہے کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری ان کے استعفے منظور کرچکے ہیں، اس لیے موجودہ اسپیکر کو اس فیصلے کو واپس لینے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ استعفے جمع کرانے پر غور کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: استعفوں کی منظوری کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے، اسد عمر

یاد رہے کہ اپریل میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی زیرِ صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین نے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسمبلی سے بڑے پیمانے پر مستعفی ہونے کے فیصلے کا اعلان پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے 11 اپریل کو وزیرِاعظم شہباز شریف کے انتخاب سے چند منٹ قبل اسمبلی کے فلور پر کیا تھا۔

سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری (جو اس وقت قائم مقام اسپیکر کے طور پر کام کر رہے تھے) نے فوری طور پر استعفے منظور کرتے ہوئے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی تھی۔

14 اپریل کو پی ٹی آئی سیکریٹریٹ نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پارٹی کے 123 اراکین قومی اسمبلی نے اسپیکر کو اپنے ہاتھ سے لکھ کر نشستوں سے استعفیٰ دیا تھا۔

سیکریٹری قومی اسمبلی طاہر حسین کے دستخط شدہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ استعفے جمع کرانے کے بعد ان کی نشستیں آئین کے آرٹیکل 64 (1) کے تحت 11 اپریل سے خالی ہوگئی ہیں۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے اکثر استعفے ہاتھ سے لکھے ہوئے نہیں تھے اور پارٹی کے لیٹر ہیڈ پر ایک جیسا متن پرنٹڈ تھا۔

اسمبلی سیکریٹریٹ حکام کو کچھ پی ٹی آئی ارکان کے دستخطوں پر بھی شکوک و شبہات تھے اور وہ دستخظ اسمبلی رول پر موجود دستخطوں سے مماثلت اور مشابہت نہیں رکھتے تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں