سوات میں مظاہرہ، حکومت سے امن دشمن عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 08 اکتوبر 2022
<p>— فوٹو: فضل خالق</p>

— فوٹو: فضل خالق

سوات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے امن دشمن عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی تو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ہم اسلحہ اٹھا سکتے ہیں۔

مظاہرین خوازہ خیلہ کی تحصیل مٹا چوک پر جمع ہوئے، اگست کے مہینے میں دہشت گرد سرگرمیاں دوبارہ منظر عام پر آنے کے بعد سوات کے لوگوں کا یہ چھٹا احتجاج تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ہم امن چاہتے ہیں‘، سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف مظاہرہ

مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے، جوانوں، بزرگوں اور پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی حصہ لیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ وادی میں دہشت گردانہ سرگرمیوں اور عسکریت پسندوں کی موجودگی برادشت نہیں کریں گے، انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ سوات کے متعدد علاقوں میں مبینہ طور پر انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

—فوٹو: فضل خالق
—فوٹو: فضل خالق

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما شیر بہادر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اور حکومتی اداروں کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ سوات کے لوگ امن پسند ہیں اور وہ اپنی زمین پر کسی کی بھی طرف سے اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔

مزید پڑھیں: سوات: ’دہشت گردی کی بڑھتی لہر‘ کے خلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی اداروں نے سوات کے زیادہ تر علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز کو معطل کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کو مشکلات درپیش ہیں۔

کچھ مظاہرین نے متعلقہ حکام کو خبردار کیا کہ اگر انہیں وادی میں کوئی دہشت گرد نظرآیا تو خود کارروائی کریں گے۔

مظاہرہ کرنے والے ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سوات کے تعلیمی اداروں کو چھوڑ دیں تاکہ ہمارے نوجوان صحیح طریقے سے تعلیم حاصل کر سکیں۔

سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے نائب صدر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ سوات کے لوگ اپنی زمین سے بھاگ جائیں گے اور دہشت گردوں کو وادی میں رہنے کی اجازت دیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے، ہم سب کی طرف سے مشترکہ مطالبہ ہے کہ ہم دہشت گردی نہیں چاہتے۔

اسی طرح قومی جرگہ کے رکن شیر شاہ خان نے کہا کہ سوات کے لوگ حیران ہوئے کہ مبینہ طور پر دہشت گرد چاہتے ہیں کہ وہ وادی میں اسلام کو نافذ کریں گے حالانکہ سوات کے لوگ پہلے ہی مذہب پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوات میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

ان کا کہنا تھا کہ اسلام کو جبر کے ذریعے نافذ نہیں کیا جاسکتا، وادی میں عسکریت پسندوں کے خاتمے تک سوات کے لوگ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سوات قومی جرگے کے رہنما مختیار یوسف زئی، فواد باچا، مظہر آزاد، عوامی نیشنل پارٹی سوات کے ضلعی صدر ایوب اشاری سمیت علاقے کے دیگر لوگوں نے ریلی سے خطاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سوات کی تحصیل چارباغ میں اگلے جمعہ کو ایک اور مظاہرہ کریں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں