وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بھرپور مدد کرے گی، راناثنااللہ

13 اکتوبر 2022
<p>اجلاس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عدم شرکت پر کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا۔—فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

اجلاس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عدم شرکت پر کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا۔—فائل فوٹو: اے ایف پی

خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے دہشت گردی کے حملوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد وزیراعظم کی اسٹیرنگ کمیٹی برائے امن کا اجلاس ہوا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبہ سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کی بھرپور مدد کریں گے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ راناثنااللہ کی زیر صدارت اسٹیرنگ کمیٹی نے پورے ملک بالخصوص سوات میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

یاد رہے کہ ملک میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے دہشت گردی کے حملوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر وزارت داخلہ نے ملک گیر الرٹ جاری کیا تھا۔

اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان اور بیرسٹر محمد علی سیف کی عدم شرکت پر کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ اجلاس میں ایم این اے خالد مقبول صدیقی، خالد حسین مگسی، محسن داوڑ، وزیراعظم کے مشیر امیر مقام، خیبرپختونخوا کے سابق گورنر شوکت اللہ خان اور سابق سینیٹر محمد صالح خان نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ 10 اکتوبرکوسوات چارباغ علاقہ میں اسکول وین پر حملہ ہوا تھا، حملہ میں اسکول وین کا ڈرائیور جاں بحق جبکہ 2 طالب علم زخمی ہوگئے تھے، سوات میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد اسکول وین پر حملہ تازہ واقعہ تھا جس کے بعد سینکڑوں مقامی شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا تھا۔

ریسکیو 1122 حکام کے مطابق چارباغ تحصیل کے علاقے گلی باغ میں وین طلبہ کو اسکول لے جارہی تھی کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کردی، حملے میں ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جب کہ 2 طلبہ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ کمیٹی نے سوات میں دہشت گردی واقعات کی مذمت کرتے ہوئے یکجہتی کا اظہار کیا اورخیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں شریک تمام شرکا نے اتفاق کیا ہے کہ صوبہ سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خیبرپختونخوا کی مدد کی جائےگی۔

اجلاس میں مشاہدہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت سیاست کرنے کے بجائے صوبہ میں عوام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

شرکا کی جانب سے کہا گیا کہ خیبرپختونخوا میں انتہاپسندی اور دہشت گردی فروغ پارہی ہے مگر صوبائی حکومت وفاق کے خلاف دھرنوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

بعد ازاں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیرنگ کمیٹی نے اتفاق کیا کہ صوبہ میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومت کی بھرپور مدد کریں گے، خیبرپختونخوا حکومت وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کے نام پر سیاست کرنے کے بجائے صوبہ میں امن کو یقینی بنائے۔

وزیر داخلہ نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان اور بیرسٹر محمد علی سیف نے اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سوات میں اسکول وین پر فائرنگ سے ڈرائیور جاں بحق، 2 طلبہ زخمی

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے سوات میں حالیہ صورتحال کر خطرناک قرار دیا، انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وفاقی حکومت کا ہے، خیبرپختونخوا حکومت وفاق کو کئی دنوں سے صوتحال سے خبردار کیا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ ’لوگوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ کن شرائط اور کن حالات میں مزاکرات کیے گئے اور کس موڑ پر ختم ہوئے اور ملک کو کن حالات کا سامنا ہے کہ وزیر داخلہ ملک میں الرٹ جاری کرنے پر مجبور ہوگئے۔‘

تبصرے (0) بند ہیں