کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 5 اراکین صوبائی اسمبلی سمیت 8 افراد پر مئی میں ہونے والے گزشتہ لانگ مارچ کے دوران دفعہ 144 کی خلاف ورزی، اکسانے، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت فرد جرم عائد کر دی۔

پی ٹی آئی کے 5 اراکین صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان، سید فردوس شمیم نقوی، ارسلان تاج حسین، جمال الدین صدیقی، محمد علی عزیز جبکہ صوبائی صدر علی زیدی، فیصل قریشی اور بلال غفار کے خلاف امن و امان کی صورت حال خراب کرنےاور 26 مئی کو نمائش چورنگی پر مارچ کو اسلام آباد جانے سے روکنے کی وجہ سے پولیس پر حملہ کرنے پر دو ایک جیسے مقدمات درج کیے گئے تھے۔

انسداد دہشت گردی نمبر ایک کے جج کے سامنے تمام نامزد پی ٹی آئی رہنما پیش ہوئے جو ضمانت پر ہیں۔

جج نے ان کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے، تاہم انہوں نے استدعا کی کہ وہ قصور وار نہیں ہیں اور مقدمہ لڑنے کا انتخاب کیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اگلی پیشی پر استغاثہ کے گواہوں کو ملزمان کے خلاف بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا اور سماعت ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کو ملک بھر میں مقدمات کا سامنا

استغاثہ کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اور رہنماؤں نے کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 144 کے تحت عائد پابندی کی خلاف ورزی کی اور وفاقی دارالحکومت میں عمران خان کے ڈی چوک پر لانگ مارچ میں جانے کے لیے تقریباً 700 کارکنان نے ریلی نکالی، پی ٹی آئی چیئرمین نے حکومت سے اسمبلیاں تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کا مطالبہ کرنے کے لیے مارچ کی کال دی تھی۔

مزید بتایا گیا کہ نامزد کردہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے کارکنان کو اکسایا، جنہوں نے تشدد اور پولیس کے ساتھ تصادم کرنے کے ساتھ اقدام قتل اور نمائش چورنگی پر دہشت پھیلائی۔

ان افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 109 (جرم میں معاونت)، دفعہ 147 (ہنگامہ آرائی)، دفعہ 148 (ہنگامہ آرائی، مہلک ہتھیار سے لیس)، دفعہ 149 (غیر قانونی اسمبلی کا ہر رکن عام اعتراض کی کارروائی میں جرم کا مرتکب)، دفعہ 186 (سرکاری ملازمین کی عوامی کاموں کی انجام دہی کے دوران رکاوٹ)، دفعہ 283 (غیر قانونی طور پر راستہ یا ٹریفک کا بہاؤ روکنا)، دفعہ 324 (اقدام قتل)، دفعہ 34 (مشترکہ ارادہ)، دفعہ 353 (سرکاری ملازم کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ قوت کا استعمال)، دفعہ 435 (نقصان پہنچانے کے لیے آگ لگانا)، اس کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 (دہشت گردی کرنے کی سزا) کے تحت مقدمہ سرکار کی مدعیت میں سولجر بازار پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں