انڈونیشیا:جزیرہ جاوا میں 5.6 شدت کا زلزلہ، 162 افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 21 نومبر 2022
<p>زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کے بعد لوگ خوف و ہراس کے عالم میں عمارت کے باہر کھڑے ہیں— فوٹو: رائٹرز</p>

زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کے بعد لوگ خوف و ہراس کے عالم میں عمارت کے باہر کھڑے ہیں— فوٹو: رائٹرز

انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا میں 5.6 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 162 افراد ہلاک اور 326 سے زائد زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق مغربی جاوا کے گورنر رضوان کامل نے تصدیق کی ہے کہ زلزلے سے 162 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور زلزلے کا مرکز دارالحکومت جکارتا سے 75 کلومیٹر جنوب مشرق میں قصبہ سیانجر تھا۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے سے انڈونیشیا کا مرکزی جزیرہ جاوا سب سے زیادہ متاثر ہوا جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہری مختلف مقامات پر محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور ہمیں خدشہ ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.6 تھی جس کا مرکز جکارتا کے جنوب میں تھا۔

اس سے قبل سیانجر انتظامیہ کے سربراہ ہرمن سوہرمن نے مقامی نشریاتی ادارے ’میٹرو ٹی وی‘ کو بتایا تھا کہ ہمیں موصولہ اطلاعات کے مطابق صرف اس ہسپتال میں 20 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے اکثر عمارتیں زمین بوس ہونے کی وجہ سے ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے۔

انڈونیشیا کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ملک میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا جس کا مرکز جکارتا سے 100 کلومیٹر دور سیانجُر میں تھا۔

انڈونیشیا کے درالحکومت جکارتا میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کے بعد لوگ خوف و ہراس کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے۔

جکارتا میں کام کرنے والے 22 سالہ وکیل مایادیتا والیو نے کہا کہ میں کام کر رہا تھا کہ اسی دوران مجھے زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی، میں واضح طور پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کر سکتا تھا، یہ جھٹکے وقت کے ساتھ مزید تیز ہوتے گئے اور کافی وقت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

جکارتا کی ایک بلند و بالا عمارت میں کام کرنے والے اے ایف پی کے صحافیوں کو بھی فوری طور پر عمارت خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

ہنگامی صورتحال

گورنر رضوان کامل نے کہا کہ لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے سڑکیں مختلف مقامات پر تباہ ہوچکی ہیں اور کئی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوگیا اور رابطے بحال کرنے کے لیے بلڈوزر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

انڈونیشیا کے میڈیا کے مطابق مذکورہ علاقے میں دکانوں، ایک ہسپتال اور اسلامی بورڈنگ اسکور بری طرح متاثر ہوگیا ہے۔

سیانجر میں منہدم عمارتیں اور ان کا ملبہ جگہ جگہ پڑا ہوا ہے اور یہ علاقہ پہاڑی پر واقع ہے جہاں گھر کنکریٹ اور مٹی کے مکسچر سے بنایا جاتا ہے۔

سوہرمین کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت ایسے لوگوں کو ڈیل کر رہے ہیں جو یہاں ہسپتال میں ہنگامی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، گاؤں سے ہسپتال میں ایمبولینسز آرہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گاؤں میں کئی خاندان ہیں جنہیں تاحال نہیں نکالا جاسکا۔

سیانجر پولیس کے سربراہ ڈونی ہیرماوان نے میٹرو ٹی وی کو بتایا کہ حکام نے لینڈ سلائیڈ سے ایک خاتون اور ایک بچے کو بچالیا ہے لیکن تیسرا شخص زخموں کی وجہ سے دم توڑ چکا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہے اور انڈونیشیا سے تعزیت اور اظہار ہمدری کرتا ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے انڈونیشیا میں زلزلے پر افسوس کا اظہار کیا اور بیان میں کہا کہ انڈونیشیا میں زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کی خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے بھائیوں اور بہنوں اور خصوصاً متاثرہ خاندانوں کے لیے دعاگو ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں