چین: حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کے باعث فیکٹری میں آتشزدگی، 38 افراد ہلاک

22 نومبر 2022
<p>چین میں کیمکل فیکٹریوں اور صنعتوں میں آگ لگنے کے حادثات عام ہیں — فائل فوٹو: رائٹرز</p>

چین میں کیمکل فیکٹریوں اور صنعتوں میں آگ لگنے کے حادثات عام ہیں — فائل فوٹو: رائٹرز

چین کے صوبہ ہینان کی ایک فیکٹری میں آگ بھڑکنے سے 38 افراد ہلاک ہوگئے جہاں حکام نے واقعے کا ذمہ دار ملازمین کی طرف سے غیر قانونی ویلڈنگ کو قرار دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق مرکزی چین کے صوبہ ہینان کے شہر اینیانگ کے ایک پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک جبکہ 2 شدید زخمی ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق ایک تجارتی کمپنی کی طرف سے ریسکیو سروسز کو پلانٹ میں آگ بھڑکنے کی اطلاعات ملیں جس کے بعد ریسکیو عملہ فوری طور پر وہاں پہنچا۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق اطلاع ملنے کے بعد میونسپل فائر ریسکیو دستے نے فوری طور پر فورسز کو جائے وقوع پر روانہ کیا جہاں مقامی وقت 11 بجے کے قریب آگ پر قابو پالیا گیا۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے کی طرف سے جاری کردہ فوٹیجز میں پلانٹ سے سیاہ اور گہرے دھویں کو اڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ’پیپلز ڈیلی‘ نے رپورٹ کیا کہ پلانٹ میں لگنے والی آگ سے ہلاکتوں کے علاوہ دو افراد زخمی بھی ہوئے جن کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بعد ازاں ’سی سی ٹی وی‘ نے رپورٹ کیا کہ ابتدائی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ آگ لگنے کی وجہ الیکٹرک ویلڈنگ بنی جس میں ملازمین نے حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی کی۔

ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق آگ کی زد میں آنے والی کمپنی ایک ہول سیل تاجر کی ہے جو مشینری، تعمیراتی مواد، غیر خطرناک کیمیکل، کپڑے اور آگ پر قابو پانے کے آلات کا کاروبار کرتی ہے۔

کمزور حفاظتی اقدامات

خیال رہے کہ چین میں ناقص اور کمزور حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ حکام کی بدعنوانی کی جہ سے صنعتی حادثات عام ہیں جہاں ہر سال کئی حادثات پیش آتے ہیں۔

اینیانگ شہر کی تجارتی کپمنی میں آگ لگنے کی خبر گزشتہ روز شانزی صوبے کے دارالحکومت تائیان کے قریبی علاقے میں ایک کیمیکل فیکٹری میں دھماکے کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کردہ وڈیوز میں کیمیکل فیکٹری میں لگنے والی آگ کے بعد آسمان میں گہرے سرمئی دھویں کو دیکھا گیا۔

دیگر تصاویر میں آس پاس کی عمارتوں کے شیشوں کے ٹکڑے اور مقامی لوگوں کو دھماکے کے بعد خوفزدہ ہوکر بھاگتے دیکھا گیا۔

خیال رہے کہ رواں برس جون میں شنگھائی کے ایک کیمیکل پلانٹ میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا تھا۔

اسی طرح گزشتہ سال شیان کے مرکزی شہر میں گیس سے ہونے والے دھماکے سے 25 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ متعدد عمارتیں بھی ملبہ بن گئی تھیں۔

سال 2015 میں چینی شہر شمالی تیانجن میں ایک کیمیکل گودام میں بڑے دھماکے میں 165 افراد ہلاک ہوئے تھے جو کہ چین کے اب تک کے بدترین صنعتی حادثات میں سے ایک تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں