’نیلم جہلم ہائیڈروالیکٹرک منصوبے کی سرنگ کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے‘

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2022
<p>چیئرمین نیپرا نے کہا کہ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اگر بقیہ سرنگیں منہدم ہوگئیں تو کیا ہوگا — فوٹو: ڈان</p>

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اگر بقیہ سرنگیں منہدم ہوگئیں تو کیا ہوگا — فوٹو: ڈان

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین نے خبردار کیا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی سرنگ کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے جس کے نتائج خوفناک ہوں گے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین نیپرا نے کہا کہ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اگر بقیہ سرنگیں منہدم ہوگئیں تو کیا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ جولائی میں سرنگ کے بند ہونے کے بعد سے بجلی صارفین ہر ماہ 10 ارب روپے ادا کرتے ہیں۔

نیپرا چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر یہ سرنگ مزید ایک سال کے لیے بند رہی تو صارفین کو 120 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔

کمیٹی کے سربراہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پیمرا توصیف فاروقی سے کہا کہ بحالی کے کام پر پیشرفت رپورٹ کے حوالے سے آگاہ کریں۔

اس پر چیئرمین پیمرا نے جواب دیا کہ مرمت اور بحالی کا کام جاری ہے لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ مستقبل میں سرنگ منہدم نہیں ہوگی۔

’منصوبے کا کام آئندہ برس جون میں مکمل ہوگا‘

اسی دوران نیلم جہلم ہائیڈروالیکٹرک پروجیکٹ کے سی ای او محمد عرفان نے کہا کہ امید ہے کہ سرنگ کی بحالی کا کام آئندہ برس جون میں مکمل ہوجائے گا۔

انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے سرنگ کا جائزہ لینے کے بعد دو ابتدائی رپورٹ جمع کروائی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سرنگ کے منہدم ہونے کی 8 وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن حتمی رپورٹ جمع کرنے سے پہلے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

محمد عرفان کا مزید کہنا تھا کہ سرنگ کے نقصان کی اصل وجہ یہ ہے کہ زیر زمین سرنگ پر پہاڑوں کا دباؤ زیادہ ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ منصوبہ مالیاتی میزانیہ مرتب کیے بغیر مکمل کیا گیا کیونکہ یہ منصوبہ ایک متنازع علاقے میں موجود ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی قرضے حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

سینیٹر اسد جونیجو نے قائمہ کمیٹی میں تجویز پیش کی کہ سرنگ کا مکمل جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

قائمہ کمیٹی میں نندی پور پاور پلانٹ منصوبے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ منصوبے کے لیے ٹینڈر کے اجرا اور بولی کا عمل ایک ماہ میں مکمل ہوگیا ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ نندی پور پاور پلانٹ کے حکام اور توانائی ڈویژن کے حکام کمیٹی اجلاس میں تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔

توانائی ڈویژن کے حکام نے سوالات کے جوابات نہ دینے پر نندی پور پاور پلانٹ کے حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔

کمیٹی کے ارکان نے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا، کئی ارکان نے تجویز دی کہ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کو بند کردینا چاہیے۔

یہ تجویز کے الیکٹرک کی بریفنگ کے دوران دی گئی تھی۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ کمپنی کی غیر قانونیت اور بے قاعدگی کی وجہ سے الیکٹرک کمپنی کو کہیں نہیں جانے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے اب تک 58 ارب روپے کا قرض واپس کیوں نہیں کیا، یوٹیلیٹی کے اعلیٰ حکام حکومت کے غیر قانونی قرضوں کی تفصیلات کمیٹی کو کیوں فراہم نہیں کر رہے؟

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے ارکان جاننا چاہتے ہیں کہ کے الیکٹرک کے ساتھ معاہدہ سال 2015 میں ختم ہونے کے باوجود معاہدے کی تجدید کیوں کی گئی؟ سیف اللہ ابڑو نے کے الیکٹرک کے سی ای او کے عدم حاضری پر انہیں رعایت دی۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اگر آئندہ اجلاس میں کے الیکٹرک کے سی ای او موجود نہ ہوئے تو یہ معاملہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کردیا جائے گا۔

تبصرے (0) بند ہیں